بھارتی جنرل کا ملک میں حراست کیمپوں کی موجودگی کااعتراف

بھارتی جنرل کا ملک میں حراست کیمپوں کی موجودگی کااعتراف

بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں لوگوں کو انتہا پسند نظریات سے نکالنے کیلئے حکومت کے ذریعے لوگوں کو انتہاء پسندانہ سوچ سے نکالنے کیلئے ’’ڈی ریڈیکلائزیشن‘‘ کیمپ چلائے جارہے ہیں۔

بی بی سی کے مطابق بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت نے نئی دلی میں منعقدہ ‘رائے سینا ڈائیلاگ’ میں جمعرات کو ایک مذاکرے میں گفتگو کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کیمپ بھارت میں موجود ہیں اور ان میں بچوں کو بھی ڈی ریڈیکلائزیشن کیلئے رکھا جاتا ہے۔ جس کا مقصد انہوں نے لوگوں کو انتہاء پسند نظریات کی گرفت سے آزاد کرانا بتایا۔

یہ پہلی بار ہے جب کسی اعلیٰ بھارتی اہلکار نے انتہاء پسندی کے خیالات سے نکالنے کیلئے کیمپوں کی موجودگی کا اعتراف کیا، ان کے اس انکشاف پر سوشل میڈیا میں سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

جنرل راوت نے دعویٰ کیا کہ بھارت کے زیرانتطام کشمیر میں 10، 12 برس کے چھوٹے بچوں تک کو ریڈیکلائز کیا جارہا ہے، ایسے لوگوں کو اب بھی رفتہ رفتہ انتہاء پسندی سے الگ کیا جا سکتا ہے، تاہم ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں پوری طرح ریڈیکلائز کردیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے لوگوں کو الگ رکھنے کی ضرورت ہے، ممکنہ طور پر انہیں کسی ڈی ریڈیکلائزیشن کمیپ میں رکھا جا سکتا ہے، ہمارے ملک میں ایسے ڈی ریکلائزیشن کیمپ پہلے سے چل رہے ہیں۔

جنرل راوت نے کہا کہ اگر ان نظریات کو پھیلانے والوں کی تہہ تک پہنچا جاسکے تو انتہاء پسند نظریات کو پنپنے سے روکا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا انتہاء پسندی کے نظریات اسکولوں، یونیورسٹیز اور مذہبی مراکز اور ویب سائٹس سے پھیلائے جارہے ہیں، لوگوں کا ایک گروپ ہے جو انتہاء پسند نظریات پھیلا رہا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق مجلس اتحاد المسلیمن کے رہنماء اور سینیئر رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے حراست مراکز کا بیان سامنے آنے پر پوچھا ہے کہ ’ماب لنچنگ‘ کرنے والوں کو کون ڈی ریڈیکلائز کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ جنرل راوت کا یہ پہلا مضحکہ خیز بیان نہیں ہے، پالیسیوں کا فیصلہ سویلین انتظامیہ کرتی ہے کوئی جنرل نہیں، پالیسی اور سیاست پر بول کر جنرل راوت سویلین برتری کو کمزور کر رہے ہیں۔