گرفتار پولیس افسر ’را‘ کا کارندہ نکلا

گرفتار پولیس افسر ’را‘ کا کارندہ نکلا

مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کے ساتھ تعلقات کے الزام میں گرفتار پولیس افسر دویندر سنگھ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ’را‘ کیلئے کام کرتا رہا ہے اور را نے اسے جہادی تنظیموں میں رابطے بناکر جاسوسی کا ٹاسک دیا تھا۔

دویندر سنگھ کو کشمیر پولیس نے 18 جنوری کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ اپنی گاڑی میں 3 افراد کو سرینگر سے جموں اور وہاں سے چندیگڑھ لیکر جارہے تھے۔ کشمیر پولیس کا دعویٰ ہے کہ 3 افراد میں سے 2 کا تعلق حزب المجاہدین سے ہے جبکہ ایک شخص وکیل ہے اور شوپیاں سے رہائشی تعلق ہے۔

بھارتی چینل ’نیوز18‘ کو انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا ہے کہ دویندر سنگھ را کیلئے کام کرتا تھا مگر جس آپریشن کے دوران اسے گرفتار کیا گیا، اس کے بارے میں را کے حکام بھی لاعلم تھے۔ دویندر سنگھ پر یہ الزام بھی عائد کیا جارہا ہے کہ اس نے نوید مشتاق سے ایک لاکھ 20 ہزار روپے وصول کیے۔

کشمیر پولیس کے مطابق نوید مشتاق ایک سابقہ پولیس اہلکار ہے جس نے 2016 میں پولیس چھوڑ کر حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کی تھی۔

دویندر سنگھ اور دیگر 3 افراد کو کشمیر پولیس نے تفتیش کیلئے نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی کے سپرد کردیا ہے۔ دوسری جانب بھارتی سیاسی جماعت کانگریس اور ایک سابق انٹیلی جنس افسر نے الزام عائد کیا تھا کہ گزشتہ برس پلوامہ میں ہونے والے خودکش حملے میں بھی دویندر سنگھ کا ہاتھ ہوسکتا ہے جس کے باعث پاکستان اور بھارت جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔

نیوز 18 کی رپورٹ کے مطابق نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دول کو بھی اس معاملے میں آگاہ کیا گیا ہے اور انہوں نے ’آپریشن ناکام‘ ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

تفتیش میں شامل ذرائع نے بتایا کہ دویندر سنگھ کے معاملے میں را کی نا اہلی شامل ہے کیوں کہ اس نے دویندر سنگھ کی نگرانی پر زیادہ توجہ نہیں دی جس کے باعث وہ ذاتی مفاد کیلئے بھی اقدامات کرنے لگا۔

دویندر را کی نظروں میں کیوں آیا

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دویندر سندھ 1995 سے لیکر 2003 تک جہادی تنظیموں کے خلاف برسرپیکار پولیس یونٹ کا حصہ رہا اور اس دوران اس نے جہادی تنظیموں میں رابطے قائم کیے اور اپنے لوگوں کو بھی جہادی تنظیموں کے اندر جاسوسی کیلئے داخل کیا۔ گزشتہ برس اگست میں جب بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سمیت ہر قسم کمیونکیشن بند کردی تو را کیلئے جہادی تنظیموں کی جاسوسی بھی مشکل ہوگئی۔ اس دوران دویندر سنگھ کے رابطے را کے کام آئے۔