
1971 کی جنگ کے ہیرو میجر محمد اکرم کا آج 49 واں یوم شہادت
ویب ڈیسک : 1971 میں پاک بھارت معرکہ میںبہادری کی اعلیٰ مثال قائم کرنیوالے پاک فوج کے ہیرومیجر محمداکرم شہیدکا آج 49 واں یوم شہادت ہے۔میجراکرم شہید کو برسی کے موقع پر پاک فوج نے خراج عقیدت پیش کردیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر بابر افتخار نے نشان حیدر پانے والے میجر اکرم کو ان کی برسی کے موقع پر خراج تحسین پیش کیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر انکا کہنا تھا کہ ہم عظیم قربانی پر میجر اکرم شہید کو سلام پیش کرتے ہیں۔انہوں نے جنگ کے دوران ہلی کے میدان میں بہادری کا مظاہرہ کیا اور تمام مشکلات کے باوجود دشمن کو واپس دھکیل دیا اور دشمن کو شدید نقصان پہنچایا۔ایسی بہادری ہی ہماری پہچان ہے،ہمارے شہداہمارا فخر ہیں۔
میجر محمد اکرم 4 اپریل 1938 کو ڈنگہ ضلع گجرات میں پیدا ہوئے ، ابتدا میں وہ نان کمیشنڈ عہدے کے لئے منتخب ہوئے مگر پھر خصوصی امتحانات پاس کرنے اور ملٹری اکیڈمی کاکول سے تربیت حاصل کرنے کے بعد13 اکتوبر 1963 میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ پاک فوج کی فرنٹیئر فورس رجمنٹ سے وابستہ ہوگئے۔پھر 1965 میں انہیں کیپٹن کے عہدے پر ترقی ملی ،انہوں نے 1965 کی پاک بھارت جنگ میں ظفر وال سیکٹر میں خدمات انجام دیں۔7 جولائی 1968 کو انہیں مشرقی پاکستان میں متعین کیا گیا۔
1970 میں انہیں میجر کے عہدے پرترقی دے دی گئی۔ 1971کی جنگ کے آغاز کے وقت میجر محمد اکرم شہید ہلی ضلع دیناجےپور میں فرینٹیر فورس رجمنٹ کی ایک کمپنی کی قیادت کررہے تھے۔ انہوں نے مسلسل پانچ دن اور پانچ راتیں اپنے سے کئی گنا بڑی بھارتی فوج کو آگے نہ بڑھنے دیا اور دشمن کے ہوش اڑا دیے۔ میجرمحمد اکرم شہید جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے آخری دم تک لڑتے رہے اور دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے 5 دسمبر 1971 کو مادر وطن کی خاطراپنی جان کا نذرانہ پیش کرتےہوئے جام شہادت نوش کیا ۔ ان کی لازوال بہادری پر دشمن بھی داددیئے بغیرنہ رہ سکا۔
1971 میں میجر محمد اکرم کو”ہیرو آف ہلی "کے نام سے شہرت ملی ا ور انہیں حکومت پاکستان نے ملک کےسب سے بڑاعسکری اعزاز”نشان حیدر”عطا کیا۔ وہ بنگلہ دیش میں بوگرا کے مقام پرآسودۂ خاک ہوئے۔میجر محمد اکرم شہید اپنی بہادری اور جرات کی وجہ سے آج بھی اہل وطن کےدلوں میں زندہ ہیں ۔