نیوزی لینڈ حکومت کا پاکستان ٹیم کو ٹریننگ کی اجازت دینے سے انکار

کرائسٹ چرچ: قومی اسکواڈ کی چوتھی کورونا وائرس ٹیسٹنگ میں تمام ممبران کا رزلٹ منفی آ گیا تاہم نیوزی لینڈ حکومت نے پاکستان ٹیم کو ٹریننگ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

قومی ٹیم دورہ نیوزی لینڈ کے لیے کرائسٹ چرچ میں موجود ہے اور پاکستان اسکواڈ کے دس ممبران کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا تاہم قومی اسکواڈ کی چوتھی کورونا وائرس ٹیسٹنگ میں تمام ممبران کا رزلٹ منفی آیا ہے اور گذشتہ روز ہونے والی چوتھی کورونا وائرس ٹیسٹنگ میں 44 ممبران کا ٹیسٹ کیا گیا تھا، تاہم نیوزی لینڈ حکومت نے پاکستان ٹیم کو ٹریننگ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے اور نیوزی لینڈ لینڈ ہیلتھ منسٹری نے کہا ہے کہ ٹریننگ کی اجازت سے اسکواڈ کے ممبران میں کراس انفیکشن کا خدشہ ہے، پاکستان ٹیم کو مینجڈ ائیسولیشن کی مدت مکمل ہونے تک ٹریننگ کی اجازت نہیں دے سکتے۔
بعدازاں پاکستان کرکٹ ٹیم کی منجمنٹ نے پی سی بی کے اعلی عہدیداران سے رابطہ کیا اوراسکواڈ ٹریننگ کی اجازت نہ ملنے سے پیدا ہونے والی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جس میں پی سی بی نے معاملات کا از سر نو جائزہ لینے کا فیصلہ کر لیا  جبکہ پی سی بی نے نیوزی لینڈ کرکٹ سے بھی رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،بورڈ آفیشلز پاکستان ٹیم منجمنٹ اور سنئیر کھلاڑیوں سے بات کریں گےاور تمام تر صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اگلے لائحہ عمل کی حکمت عملی بنائی جائے گی۔

بعداز اں پی سی بی نے دورہ نیوزی لینڈ جاری رکھنے کے لیے قومی کرکٹرز کی رائے لینے کا فیصلہ کیا اور کرکٹ بورڈ نے کپتان بابراعظم اور ہیڈ کوچ مصباح الحق کو ٹاسک سونپ دیا۔مصباح الحق اور بابر اعظم کھلاڑیوں سے بات کرکے پی سی بی کو رپورٹ دیں گے،پی سی بی کے مطابق  نیوزی لینڈ حکومت نے پاکستان اسکواڈ کو آئیسولیشن کے دوران ٹریننگ کی اجازت نہیں دی، کھلاڑی اگر آرام دہ محسوس کرتے ہیں تو نیوزی لینڈ سیریز کو آگے بڑھایا جائے گا۔