یمن: عسکری کیمپ پر میزائل حملے میں 80 فوجی ہلاک، صدر منصور ہادی نے حملے کا ذمہ دار حوثی باغیوں کو قرار دے دیا

یمن: عسکری کیمپ پر میزائل حملے میں 80 فوجی ہلاک، صدر منصور ہادی نے حملے کا ذمہ دار حوثی باغیوں کو قرار دے دیا

یمن میں ایک فوجی ٹریننگ کیمپ پر میزائل حملے کے نتیجے میں 80 فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یمن کے مرکزی صوبے ماریب میں ہونے والے اس حملے میں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

یہ فوجی کیمپ یمن کے دارالحکومت صنعا کے مشرق میں 170 کلومیٹر دور واقع ہے۔ فوجی ذرائع نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا ہے کہ حملے میں کیمپ میں واقع ایک مسجد کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب لوگ وہاں نماز ادا کرنے کے لیے اکٹھے ہو رہے تھے۔

یمن کی حکومت نے اس حملے کا ذمہ دار حوثی باغیوں کو قرار دیا ہے تاہم اس حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی نے قبول نہیں کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

یمن کے صدر منصور ہادی نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک ’بزدلانہ‘ حملہ قرار دیا ہے۔ یمن کی سرکاری نیوز ایجنسی صبا کے مطابق یمنی صدر کا کہنا تھا کہ حملہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ’حوثی باغیوں کو امن کی کوئی خواہش نہیں ہے۔‘

گذشتہ برس اگست میں حوثی باغیوں نے جنوبی شہر عدن میں سرکاری فوج کی پریڈ پر میزائل حملہ کر کے 32 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

حوثی

مارچ 2015 سے یمن شدید تنازع کی زد میں ہے اور اس تنازعے نے اس وقت زور پکڑا جب حوثی باغیوں نے ملک کے بیشتر مغربی علاقوں پر قبضہ کر لیا جس کے باعث صدر ہادی کو ملک چھوڑ کر فرار ہونا پڑا۔

سعودی عرب اور آٹھ دیگر سنی اکثریتی عرب ممالک نے صدر ہادی کی حکومت کی بحالی کے لیے حوثی باغیوں پر فضائی حملوں کی مہم بھی شروع کی تھی کیونکہ ان ممالک کا ماننا ہے کہ باغیوں کو شعیہ اکثریتی ملک ایران کی پشت پناہی حاصل ہے۔

اس تنازع میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اقوام متحدہ نے یمن کی صورتحال کو دنیا کا بدترین انسانیت سوز بحران قرار دیا تھا۔

یمن میں کیا ہو رہا ہے؟

بظاہر لگتا ہے کہ یمن گزشتہ چار برسوں سے زائد عرصے سے ایک ایسی بے قابو خانہ جنگی کا شکار ہے جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد بھوک و افلاس کا شکار ہیں۔

اس ملک میں یہ جنگ سنہ 2015 میں شروع ہوئی تھی جب حوثی باغی نے دارالحکومت صنعا اور کئی مغربی علاقوں پر قبضہ کر کے یمن کے صدر منصور ہادی کو ملک سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔

یمن

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر خلیجی ممالک نے اس پیش رفت کو خطے میں ایرانی اثر و نفوذ میں اضافہ قرار دیا اور منصور ہادی کی حکومت کو یمن میں بحال کرنے کے لیے فوجی مداخلت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے اس مقصد کے لیے انھیں اسلحہ، فوجی امداد اور انٹیلیجینس فراہم کرنے کا اعلان کیا۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق، اب تک یمن میں اس تصادم کی وجہ سے سات ہزار سے زیادہ شہری ہلاک اور گیارہ ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں اور ان میں 65 فیصد اموات سعودی عرب کی قیادت میں ہونے والی فضائی بمباری سے واقع ہوئی ہیں۔

اس کے علاوہ ہزاروں ایسی اموات ہوئی ہیں جن کی وجہ بیماری اور بھوک و افلاس ہے، اور جنھیں مناسب سہولتیں مہیا ہونے کی صورت میں روکا جاسکتا تھا۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس وقت یمن کی 80 فیصد آبادی، جو کہ ڈھائی کروڑ بنتی ہے، کو فوری امداد کی ضرورت ہے، اور دس فیصد ایسے لوگ ہیں جو قحط کے دہانے پر ہیں۔

گزشتہ ماہ ہوثی باغیوں نے اقوام متحدہ کی جانب سے طے کیے گئے جنگ بندی کے ایک معاہدے کے تحت بحیرہ احمر کی تین اہم بندرگاہوں سے اپنی میلیشا کو باہر نکال لیا تھی تاکہ ملک کے اندرونی علاقوں میں امدادی سامان کی ترسیل ممکن ہو سکے۔