‘مودی حکومت مقبوضہ جموں کشمیر کی مسلم شناخت چھیننے پر تلی ہوئی ہے

سرینگر ، 02 دسمبر :  مقبوضہ جموں و کشمیر میں  حریت رہنما اور جموں و کشمیر ماس مومنٹ (جے کے ایم ایم) کی سرپرست فریدہ بہینجی نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی زیرقیادت فاشسٹ ہندوستانی حکومت مسلمان کی شناخت کو چھیننے پر تکیہ کندہ ہے۔ .

فریدہ بہین جی نے سری نگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ مودی حکومت نے مقبوضہ علاقے کے لوگوں پر مظالم کے لئے نو لاکھ سے زیادہ ہندوستانی فوجیوں کو آزاد چھوڈ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی او جے کے کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بعد مودی حکومت نے ہزاروں ہندوستانی ہندوؤں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کیے اور اب وہ ان کے علاقوں کے مقامی باشندوں کو بے دخل کررہے ہیں اور انہیں بے گھر کردیا ہے۔

جے کے ایم ایم رہنما کا کہنا تھا کہ ہندوستانی نہ صرف آئی او جے کے میں بدترین قسم کے ظلم و ستم کا سہارا لے رہے ہیں بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج انسانی حقوق کی بھی سراسر خلاف ورزی کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ حکام جموں خطے کے متعدد حصوں میں گذشتہ کئی دہائیوں سے وسیع میدانی علاقوں ، پہاڑوں اور جنگلات میں بسنے والے مسلمان باکرال کو زبردستی اپنی سرزمین سے بے دخل کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مذموم منصوبے کے تحت مودی حکومت ان زمینوں کو ہندوستانی صنعت کاروں کے حوالے کرنا چاہتی ہے اور اس علاقے کی آبادی کو تبدیل کرنے کے لئے ہندوستانی ہندوؤں کو مستقل طور پر وہاں آباد کرنا چاہتی ہے۔

فریدہ بہین جی نے کشمیری عوام سے اپیل کی کہ وہ مودی حکومت کے کشمیر مخالف اقدامات کے خلاف آواز اٹھائیں اور اس کے جارحانہ منصوبوں کے خلاف چھوڈ ایک ساتھ مقابلہ کریں۔