مسرت عالم بٹ نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں بیمار ہوگئے علاج معالجے کی مناسب سہولت فراہم نہیں کی جارہی ہے

سری نگر() مسلم لیگ جموںوکشمیر کے چیئرمین مسرت عالم بٹ نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں  بیمار ہوگئے ہیں ۔ مسرت عالم بٹ کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت  قید ہیں۔ تہاڑ جیل میں  مسرت عالم شدید علیل ہیں اور انہیں علاج معالجے کی مناسب سہولت فراہم نہیں کی جارہی ہے جس کی وجہ سے انکی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔ مسرت عالم بٹ پر38بار کالاقانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کیاگیا ہے اوران کے خلاف کشمیر کے تقریبا تمام پولیس اسٹیشنوں میں جھوٹے مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ مسرت عالم بٹ کو این آئی اے نے ایک اورجھوٹے مقدمے میںملوث کر کے نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل کی تنگ و تاریک کوٹھری میںقید کر رکھا ہے اور انہیںعلاج معالجے کی مناسب سہولتیں بھی فراہم نہیں کی جارہی ہیں جو کہ انسانی حقوق کی بدترین خلا ف ورزی ہے۔پبلک سیفٹی ایکٹ  قانون کے تحت کوئی بھی پولیس اہلکار کسی بھی شہری کو گھر یا باہر سے محض شک کی بنیاد پر گرفتار کر سکتا ہے اور گرفتار کیے گئے شہری کے اہل خانہ کو اطلاع نہیں دی جاتی نہ ہی اسے قانونی امداد حاصل کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔پی ایس اے کے تحت بغیر عدالتی سماعت کے کم سے کم دو سال تک کسی کو بھی بلا لحاظ عمر قید کیا جا سکتا ہے۔مسرت عالم بٹ  اپنی زندگی کے 24برس مختلف جیلوں میں گزار چکے ہیں۔مسلم لیگ کے قائم مقام چیئرمین عبدالاحد پرہ نے سرینگر میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ مسرت عالم بٹ پہلے ہی متعدد امراض میں مبتلا ہیں اور وہ اپنی زندگی کے 24برس مختلف جیلوں میں گزار چکے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ 2014میں انہیں غیر قانونی نظربندی سے رہا کیاگیا تھا تاہم دو ماہ بعد ہی انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا جس کے بعد سے وہ مسلسل نظربند ہیں۔