
کشمیر ایک سیاسی مسلہ ہے اسے سیاسی طریقے سے ہی حل کیا جاسکتاہے محبوبہ مفتی کشمیرمیں حالات بہتر ہیں توپھراضافی فوجی دستوں کی تعیناتی کا کیا مطلب ہے؟
سری نگر() مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے کہا ہے کشمیر ایک سیاسی مسلہ ہے اسے سیاسی طریقے سے ہی حل کیا جاسکتاہے۔ جموںو کشمیرکے لوگوں سے بات چیت اور پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے سے ہی جموںو کشمیرمیں امن قائم ہوسکتاہے ۔کے پی آئی کے مطابق ایک تقریب میں اخبار نویسوں سے گفتگو کے دوران محبوبہ مفتی نے کمیونٹی اور شادی ہالوں میں سی آرپی ایف کے جوانوں کو تعینات کرنے کے فیصلے پربر ہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہر سرینگر میں بالعموم اور شہرخاص میں بالخصوص کمیونٹی اور شادی ہال اس لئے تعمیرکئے گئے ہیں کہ لوگوںکوشادی بیاہ کی تقریبات یاتعزیتی مجالس کے دوران کسی بھی مشکل کاسامنا نہ کرنا پڑے ۔اضافی فوجی دستوں کی تعیناتی کے بعد ان کے قیام کے لئے اگر ان جگہوں کونیم فوجی دستوں کے لئے استعمال میں لایا جائے تو اس سے بڑی ناانصافی اور کیاہوسکتی ہے۔ انہوںنے کہا اگر حکومت دعوی کررہی ہے کہ جموںو کشمیرمیںحالت بہترہے توپھراضافی فوجی دستوں کی تعیناتی کامطلب کیا۔پی ڈی پی صدر نے کہاکہ جموںو کشمیرمیںپہلے ہی دس لاکھ کے قریب فوج کی تعیناتی عمل میں لا ئی گئی ہے اور دنیاکے کسی خطے میں اتنی بڑی تعداد میں فوج کی تعیناتی نہیں کی جاتی ہے اگر اس کے باوجود جموںو کشمیرمیں امن قائم نہیں ہے تو ان وجوہات کوتلاش کیاجاناچاہئے جن کی وجہ سے بد امنی اضطرابی کی صورتحال برقرارہے ۔سابق وزیراعلی نے کہاکہ جموںو کشمیرایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس مسئلے کوبندوق یاڈنڈے کی بنیاد پرحل نہیں کیاجاسکتاہے۔ ا سکے لئے ضروری ہے کہ بات چیت کاراستہ اختیار کیاجائے۔ بھارتی حکومت جموںو کشمیرکے سٹیک ہولڈروں کے ساتھ بات چیت کرے اور پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے اقدامات اٹھائے تاکہ جموں وکشمیرپراسکالازمی اثر پڑے ۔