حل طلب تنازعہ کشمیر سے علاقائی امن کو سنگین خطرہ لاحق ہے، ماس موومنٹ

اسلام آباد 03جون :  جموں وکشمیر ماس موومنٹ کے وائس چیئرمین عبدالمجید میر نے کہا ہے کہ حل طلب تنازعہ کشمیر سے علاقائی امن کو سنگین خطرہ لاحق ہے ۔
 عبدالمجید میر نے اسلام آباد میں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ علاقے میں آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین نافذ کررکھے ہیں جن کے ذریعے بھارتی فوجیوںکو نہتے کشمیریوں کے قتل عام کی کھلی چھوٹ حاصل ہے ۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو محض شک کی بناپر بھارتی فورسز نے عسکریت پسندقراردیگر کر گرفتار کرلیاہے اور انہیں حراستی مراکز میں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور متعدد کو حراست کے دوران شہید کر کے گمنام قبروں میں دفن کر دیاجاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ دوران حراست میں شہید ہونے والے کشمیری نوجوانوں کی گمنام قبریں جموںوکشمیر کے دور دراز علاقوں میں پھیلی ہوئی ہیں جبکہ ان کے اہلخانہ آج بھی ان کی واپسی کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت تمام تر ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کرنے کے باوجود کشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی کوکمزور کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اوروہ انکے ناقابل تنسیخ حق، حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد کی سیاسی ،سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔عبدالمجید میر نے کہاکہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی حل طلب تنازعات کی فہرست میں سب سے پرانا تنازعہ ہے ۔