
ہندوستان کے توسیعی پسندانہ عزائم کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی سازش کا حصہ ہے، الطاف حسین وانی
اسلام آباد جموں کشمیر نیشنل فرنٹ کے سینئر وائس چیئرمین الطاف حسین وانی نی 5 اگست کو کشمیر کی حالیہ تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دن سے بھارتی باشندوں کو مستقل طور پر کشمیر میں آباد کرنے کے ہندوستانی استعمار ی منصوبے کا باضابطہ آغاز ہوتا ہے جس کا مقصد بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔منگل کو یہاں جاری ایک بیان میںجے کے این ایف کے رہنما نے ہندوستانی ریاست کے توسیعی پسندانہ عزائم پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ مسلم اکثریتی ریاست میں مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی ہندوستان کی گہری سازش کا ایک حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 اور 35۔اے کو منسوخ کرتے ہوئے ہندوستانی آباد کاروں کے لئے جائیداد خریدنے اور علاقے میں مستقل بنیادوں پر آباد ہونے کے لئے راہ ہموار کرنے کی کوشش کی گئی۔
سنگین سیاسی تصادم کے مضمرات رکھنے والے اس خطرناک اقدام کو کشمیریوں نے ریاست کی آبادکاری کو تبدیل کرنے اور ان کے وسائل، ملازمت، شناخت، ثقافتی، زمین اور سب سے بڑھ کر حق خودارادیت سے وابستہ حق سے محروم رکھنے کی سازش کے طور پر دیکھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ یک طرفہ اقدام بین الاقوامی قانون اور جنیوا کنونشن کی سراسر خلاف ورزی ہے جس کے تحت قابض ریاست کو متنازعہ علاقے کی حیثیت میں یکطرفہ طور پر ردوبدل سے سختی سے ممانعت ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے کبھی بھی اپنے مادر وطن پر بھارت کے زبردستی اور غیرقانونی قبضے کو قبول نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے بہادر عوام نے پھر سے ریاست کے اس زبردستی وابستگی اور تقسیم کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستانی ریاست کے اس خود مختار،غیر جمہوری اور غیر قانونی اقدام نے غیر قانونی قبضے کے خلاف عوامی ناراضگی کی سطح کو ہی بڑھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے ڈومیسائل قانون میں ترمیم سے جموں، کشمیر اور لداخ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ ڈوگرہ اور ہندو برادری، جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں بی جے پی حکومت نے دھوکہ دیا ہے، نے ریاست میں نئے قوانین کو شامل کرنے کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ہے،1947 کے بعد سے ہندوستان نے متنازعہ علاقے کشمیر پر اپنے غیرقانونی کنٹرول کو مستحکم کرنے کے لئے متعدد احکامات/آرڈیننسز میں توسیع کی تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ اقدامات کشمیریوں کو محکوم بنانے میں ناکام رہے ہیں اور ان کے سیاسی اور جمہوری حقوق کے لئے لڑنے کی اپنی خواہش کو توڑنے میں ناکام رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک نام نہاد جموں و کشمیری تنظیم سازی ایکٹ 2019ء کا تعلق ہے ، بھارتی پارلیمنٹ کی جانب سے کوئی بھی قانون سازی مسئلہ کشمیر کی متنازعہ نوعیت کو تبدیل نہیں کرسکتی ہے۔ ہندوستانی حکومتیں اپنے قانون اور آئین کو تو تبدیل کرسکتی ہیں لیکن وہ بین الاقوامی معاہدوں کو کیسے تبدیل کرسکتے ہیں، اقوام متحدہ کی قراردادیں جو اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ تنازعہ کشمیر جموں و کشمیر کے عوام کے بنیادی حقوق سے متعلق ہے۔وانی نے مزید کہا کہ عوام کو گمراہ کرنے کے بجائے ہندوستانی حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ زمینی حقائق کو قبول کریں اور حق خودارادیت کے اصول کے مطابق تنازعہ کو پر امن طریقے سے حل کریں۔انہوں نے عالمی برادری سے ہندوستانی توسیع پسندانہ منصوبوں کا مؤثر نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا کو کشمیر سے پائے جانے والے کلیدی سوالوں کا مثبت جواب دینا چاہئے اور ان غیر قانونی قوانین کو کالعدم بنانے کے لئے حکومت ہند پر اثر انداز ہونا چاہئے۔دریں اثنا جے کے این ایف کے ترجمان نے سرینگر سے ایک الگ بیان میں 5 اگست کو اپنی جماعت کی طرف سے یوم استحصال منانے کے مطالبہ کا اعادہ کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر ہندوستان کے غیر قانونی اور ناجائز حکمرانی کے خلاف جنگ کے عزم کی توثیق کرنے کے لئے اس دن مکمل ہڑتال کریں۔
سنگین سیاسی تصادم کے مضمرات رکھنے والے اس خطرناک اقدام کو کشمیریوں نے ریاست کی آبادکاری کو تبدیل کرنے اور ان کے وسائل، ملازمت، شناخت، ثقافتی، زمین اور سب سے بڑھ کر حق خودارادیت سے وابستہ حق سے محروم رکھنے کی سازش کے طور پر دیکھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ یک طرفہ اقدام بین الاقوامی قانون اور جنیوا کنونشن کی سراسر خلاف ورزی ہے جس کے تحت قابض ریاست کو متنازعہ علاقے کی حیثیت میں یکطرفہ طور پر ردوبدل سے سختی سے ممانعت ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے کبھی بھی اپنے مادر وطن پر بھارت کے زبردستی اور غیرقانونی قبضے کو قبول نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے بہادر عوام نے پھر سے ریاست کے اس زبردستی وابستگی اور تقسیم کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستانی ریاست کے اس خود مختار،غیر جمہوری اور غیر قانونی اقدام نے غیر قانونی قبضے کے خلاف عوامی ناراضگی کی سطح کو ہی بڑھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے ڈومیسائل قانون میں ترمیم سے جموں، کشمیر اور لداخ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ ڈوگرہ اور ہندو برادری، جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں بی جے پی حکومت نے دھوکہ دیا ہے، نے ریاست میں نئے قوانین کو شامل کرنے کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ہے،1947 کے بعد سے ہندوستان نے متنازعہ علاقے کشمیر پر اپنے غیرقانونی کنٹرول کو مستحکم کرنے کے لئے متعدد احکامات/آرڈیننسز میں توسیع کی تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ اقدامات کشمیریوں کو محکوم بنانے میں ناکام رہے ہیں اور ان کے سیاسی اور جمہوری حقوق کے لئے لڑنے کی اپنی خواہش کو توڑنے میں ناکام رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک نام نہاد جموں و کشمیری تنظیم سازی ایکٹ 2019ء کا تعلق ہے ، بھارتی پارلیمنٹ کی جانب سے کوئی بھی قانون سازی مسئلہ کشمیر کی متنازعہ نوعیت کو تبدیل نہیں کرسکتی ہے۔ ہندوستانی حکومتیں اپنے قانون اور آئین کو تو تبدیل کرسکتی ہیں لیکن وہ بین الاقوامی معاہدوں کو کیسے تبدیل کرسکتے ہیں، اقوام متحدہ کی قراردادیں جو اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ تنازعہ کشمیر جموں و کشمیر کے عوام کے بنیادی حقوق سے متعلق ہے۔وانی نے مزید کہا کہ عوام کو گمراہ کرنے کے بجائے ہندوستانی حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ زمینی حقائق کو قبول کریں اور حق خودارادیت کے اصول کے مطابق تنازعہ کو پر امن طریقے سے حل کریں۔انہوں نے عالمی برادری سے ہندوستانی توسیع پسندانہ منصوبوں کا مؤثر نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا کو کشمیر سے پائے جانے والے کلیدی سوالوں کا مثبت جواب دینا چاہئے اور ان غیر قانونی قوانین کو کالعدم بنانے کے لئے حکومت ہند پر اثر انداز ہونا چاہئے۔دریں اثنا جے کے این ایف کے ترجمان نے سرینگر سے ایک الگ بیان میں 5 اگست کو اپنی جماعت کی طرف سے یوم استحصال منانے کے مطالبہ کا اعادہ کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر ہندوستان کے غیر قانونی اور ناجائز حکمرانی کے خلاف جنگ کے عزم کی توثیق کرنے کے لئے اس دن مکمل ہڑتال کریں۔
via urdupoint news