فاشسٹ بھارتی حکومت کے ہاں کسی کی آزادی اوردیگر حقوق سلب کرنے کے لیے کشمیری مسلمان ہونا کافی ہے

قابض حکام کا یہ موقف کہ میں آزاد ہوں، غلط ہے‘مجھے نہیں معلوم حکومت اس طرح کے ہتھکنڈے کیوں استعمال کررہی ہے‘پروفیسر سیف الدین سوز

سرینگر مودی کی زیرقیادت فاشسٹ بھارتی حکومت کے ہاں کسی کی آزادی اوردیگر حقوق سلب کرنے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ ایک کشمیری مسلمان ہو،اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ بھارت نواز ہو یا آزادی پسند ہو ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اس کی تازہ مثال سابق بھارتی وزیر پروفیسرسیف الدین سوزکی ہے جنہوںنے خود یہ اعتراف کیا ہے کہ وہ آزاد نہیں بلکہ مسلسل نظربند ہیں۔پروفیسر سیف الدین سوز نے سرینگر میں ایک بیان میں کہاکہ آج میں سرینگر میں حیدر پورہ کی گلبرگ کالونی میں اپنی علیل بہن سے ملنے گیا تھا۔انہوںنے کہا چونکہ پولیس مجھے اپنی گاڑی کے بغیر سفر کرنے کی اجازت نہیں دیتی اس لئے دو پی ایس اوز بھی میرے ہمراہ تھے۔انہوںنے کہا کہ جب وہ گھر واپس آئے تو پولیس نے ایک ویڈیو تیار کرکے جاری کی جس میں دکھایا گیا کہ میں آزاد ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کا یہ موقف ایک سفید جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔انہوںنے کہاکہ اسی اثناء میں ، میں نے اتوارکو ساڑے بارہ بجے کے قریب پڑوس میں اپنی بیٹی سے ملنے کے لئے باہر جانے کی کوشش کی لیکن پولیس نے مجھے باہر جانے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے کہا میں اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہوں کہ میں گھرمیں نظربند ہوں اور میں باہر نہیں جاسکتا ہوں۔پروفیسرسوز نے بتایا کہ قابض حکام کا یہ موقف کہ میں آزاد ہوں، غلط ہے۔ انہوںنے کہاکہ مجھے نہیں معلوم کہ حکومت اس طرح کے ہتھکنڈے کیوں استعمال کررہی ہے۔ انہوںنے کہا میں نے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی اوراس کے باوجود میں نظربندہوں۔انہوں نے کہاکہ میری نظربندی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیر میں شہری آزادیاں کس طرح سلب کی جاتی ہیں۔پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی اس طرح کی ایک اور مثال ہے جن کی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بندی میں مزید تین ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔ وہ ان ہزاروں افراد میں شامل ہیں جنہیں بھارت نے گزشتہ سال 5 اگست کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے کئی گھنٹے پہلے گرفتار کیاتھا۔