
سرکاری ملازمین کے لیے پا سپورٹ کے حصول کے لیے مثبت پولیس رپورٹ لازمی سرکاری ملازمین کے پاسپورٹ حصولیابی کیلئے ویجی لنس کی کلیئرنس لازمی ہے سرکلر جاری
سری نگر() بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے عام شہریوں کا حق سفر ختم کرتے ہوئے ان کے لیے پاسپورٹ کا حصول تقریبا ناممکن بنا دیا ہے اب سرکاری ملازمین کے لیے پا سپورٹ کے حصول کے لیے مثبت پولیس رپورٹ لازمی قراردے دی گئی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر مین بھارتی انتظامیہ نے ایک سرکیولر جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کے پاسپورٹ حصولیابی کیلئے ویجی لنس کی کلیئرنس لازمی ہے ۔ سرکاری ملازموں سمیت شہریوں کو پاسپورٹ سی آئی ڈی کی جانب سے کی گئی جانچ کی بنیاد پر جاری کیا جاتا ہے۔تاہم موجودہ نظام میں کوئی ایسا طریقہ کار شامل نہیں ہے جس سے ایسے ملازمین جو یا تو معطل ہیں، یا سنگین الزامات کی وجہ سے محکمانہ جانچ یا قانونی چارہ جوئی کا سامنا کر رہے ہیں، کو پاسپورٹ کی اجرائی سے دور رکھنے میں مدد ملے گی۔ پاسپورٹ کے حصول کے لیے بھارتی وزارت پرسنل،گروینس اینڈ پنشن اینڈ ٹریننگ نے، مرکزی ویجی لنس کمیشن اور وزارت خار جہ کی مشاورت سے رہنما خطوط کا جائزہ لیا ہے اور سرکاری ملازمین کو پاسپورٹ دینے پر غور کرتے ہوئے تازہ ویجی لنس کلیئرنس حاصل کرنے کے لیے تفصیلی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ حکمنامے میںتمام انتظامی محکموں کے سربراہان پر زور دیا گیا ہے کہ ملازمین کی جانب سے پاسپورٹ کے اجرا کے لیے رجوع کرنے کی صورت میں ویجی لنس سے تازہ ترین کلیئرنس لازمی طور حاصل کی جائے۔کے پی آئی کے مطابق پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین حکیم محمد یاسین نے سرکاری ملازمین کے لئے پاسپورٹ کے حصول کے لیے ویجی لنس کلیرنس کو مشروط رکھنا نا انصافی قرار دیا ہے۔ ایک بیان میں حکیم یاسین نے حکومت کو ملازم کش پالیسی اپنانے پر آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہزار بے روزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے اپنے وعدے کے برعکس حکومت مختلف بہانوں سے پہلے سے ہی بر سر روزگار نوجوانوں کے روزی روٹی چھیننے کے در پے ہیں۔حکیم یاسین نے کہا کہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ حکومت ملازم کش پالیسی اپنانے کے بجائے ایسے عوام دوست اقدمات کریںجن سے لوگوں میں مین سٹریم کے تئیںاعتماد اور اپنا پن کے جذبات بحال ہو سکیں ۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا پر زور دیا کہ وہ بیورو کریسی کو متنبہ کریں کہ وہ کوئی بھی ایسا فیصلہ نہ کریں جس سے جموں وکشمیر کے لوگوں خاص کر نوجوانوں کے دل اور جذبات مجروح ہو جائیں