
مقبوضہ جموں و کشمیر جامع مسجد سرینگر میں چار ماہ بعد نما ز جمعہ ادا کی گئی میر واعظ عمر فاروق گھر میں مسلسل نظر بند
سرینگر07اگست () بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں انجمن اوقات نے کہا ہے کہ جامع مسجد سرینگر میں قریباً چار ماہ بعد نمازجمعہ ادا کی گئی ۔
قابض انتظامیہ نے کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے کے نام پر تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ پر پابندی عائد کر دی تھی۔انجمن اوقات نے کوروانا ’ ایس او پی“پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے تمام انتظامات کر رکھے تھے۔انجمن اوقات جامع مسجد کے صدر اور حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کو جمعہ کی نماز کی ادائیگی کیلئے گھر سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔قابض بھارتی انتظامیہ نے انہیں 4اگست 2019سے سرینگر میں گھر میں نظر بند کر رکھا ہے ۔
جامع مسجد کے امام حئی مولانا سید احمد نقشبندی نے گزشتہ روز نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب میں مسجد میں نماز کی دوبارہ ادائیگی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ انہوںنے افسوس ظاہر کیا کہ بھارتی حکام نے میر واعظ عمر فاروق کو گزشتہ دو برس سے گھر میں نظر بند کر رکھا ہے اور انہیں جمعہ کا خطبہ دینے کیلئے جامع مسجد میں آنے کی اجازت نہیں دی جارہی ۔ انہوںنے کہا حکام ایساکر کے کشمیری مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچا رہے ہیں۔