بھارتی پارلیمنٹ کے احاطے میں بھی کشمیریوں کا احتجاج ایڈوکیٹ محمد اکبر لون اور حسنین مسعودی نے احتجاج کیا ہے

نئی دہلی () مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے  کے دو سال پورے ہونے پر  بھارتی پارلیمنٹ  کے احاطے میں بھی احتجاج کیا گیا ۔نیشنل کانفرنس کے اراکین  بھارتی پارلیمان  ایڈوکیٹ محمد اکبر لون اور جسٹس  (ر)حسنین مسعودی نے  پارلیمنٹ کے احاطے میں مہاتما گاندھی کے مجسمے کے سامنے احتجاج کیا ، ان رہنماوں نے   جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کی بحالی کا مطالبہ کیا۔دونوں اراکین پارلیمان نے ہاتھوں میں پلے کاڑ اٹھا رکھے تھے اور جن پر ‘پانچ اگست2019 کے فیصلوں کو منسوخ کیا جائے ‘ اور ‘جموں و کشمیر کی خصوی پوزیشن کو بحال کیا جائے ‘ کے نعرے تحریر تھے ۔کے پی آئی کے مطابق دونوں رہنماوں  نے اس موقعے پر میڈیا  سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ  بھارتی  حکومت کے 5 اگست 2019 کے فیصلے سراسر غلط تھے اور خصوصی پوزیشن کے خاتمے کے لئے ملکی عوام کے سامنے جو دلائل دیے گئے تھے اورجو دعوے کئے گئے تھے وہ سب کے سب سراب ثابت ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے حالات  بھارتی حکومت کے دعوئوں اور اعلانات کے عین برعکس ہیں اور حکام کی طرف سے فرضی لیپا پوتی کے باوجود بھی حقائق سامنے آرہے ہیں۔ لداخ سے لے کر لکھن پور تک تینوں خطوں کے عوام بھارتی حکومت کے فیصلوں سے نالاں ہیں اور اپنے حقوق کی فوری بحالی چاہتے ہی