
بیروت دھماکوں میں اموات کی تعداد بڑھ گئی
جاں بحق افراد کی تعداد145 سے بڑھ گئی ہے جب کہ5ہزار زخمی ہیں، 3 لاکھ افراد بے گھر ہوگئے ہیں اور ملکی معیشت کو 6 کھرب سے زائد کا نقصان ہوا اور شہر کی بندرگاہ مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے، مقامی گورنر
مظاہرین کی جانب سے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی اطلاعات بھی ہیں۔ نیوز رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پرتشدد مظاہرین نے لبنان کے وزیرانصاف پر حملہ کر کے انہیں بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ وزیر انصاف نجم مشتعل ہجوم سے بات کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ انہیں سڑک پر گھیر لیا گیا، اس دوران مظاہرین ان پر پانی کی بوتلیں بھی پھینکتے رہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق مظاہرین کا ماننا ہے کہ بیروت حملوں سے قبل ملکی معیشت کی تباہی میں سیاستدانوں کی کرپشن اور انتظامی امور میں غفلت کا عمل دخل ہے۔عوام کا مطالبہ ہے بیروت حملوں میں جان کی بازی ہارنے والے 150 کے قریب افراد کو انصاف فراہم کیا جائے۔ خبر ایجنسی کے مطابق بندرگاہ کے عملے کے 16 اراکین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آگ بجھانے والے عملے کو گودام نمبر 9 میں لگی ابتدائی آگ بجھانے کے لیے بلایا گیا تھا تاہم سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصویر کے مطابق ایک فائر فائٹر کو دھماکہ ہونے سے کچھ ہی لمحے قبل گودام نمبر 12 کے گیٹ کے سامنے دیکھا گیا۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصویر کو جس شخص نے کیمرے میں محفوظ کیا تھا اس سے متعلق خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ دھماکے میں جان کی بازی ہار گیا تھا جبکہ آگ بجھانے والے فائر فائٹر کے بھی انتقال کر جانے خبریں ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق لبنان کی وزیر اطلاعات منال عبدالصمد نے بتایا کہ بیروت بندرگاہ پر موجود گودام میں دھماکوں کی تحقیقات تک 2014ء سے امونیم نائٹریٹ کو ذخیرہ کرنے، نگرانی اور کاغذی کارروائی سے متعلق امور سرانجام دینے والے بندرگاہ کے تمام حکام گھروں میں نظربند رہیں گے۔لبنان کے صدر مچل عون نے کہا کہ بیروت بندرگاہ میں موجود گودام میں دھماکے 2,750 ٹن امونیم نائٹریٹ کے غیرمحفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے کی وجہ سے ہوئے جس کے باعث شہر میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ واضح رہے کہ بیروت بندرگاہ پر موجود گودام میں امونیم نائٹریٹ کے دھماکوں سے اب تک 145 افراد جاں بحق اور 4000 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ امدادی سرگرمیاں ابھی بھی جاری ہیں۔