
مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کے لیے سبھی فریقوں سے مذاکرات کیے جائیں حریت کانفرنس جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے سے تنازعہ جموں وکشمیر مزید پیچیدہ ہو گیا ہے
سری نگر() کل جماعتی حریت کانفرنس نے مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کے لیے سبھی فریقوں سے مذاکرات کرنے پر زور دیا ہے۔ ترجمان کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ دفعہ 370 کی منسوخی اور جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے سے تنازعہ جموں وکشمیر مزید پیچیدہ ہو گیا ہے جس کا اظہار ایل اے سی پر چین بھارت کشیدگی سے بھی ہوتا ہے ۔ ترجمان نے کہا ہے کہ ایل او سی پر جنگ بندی معاہدے پر عمل سے قدرے سکون ملا ہے۔کے پی آئی کے مطابق حریت کانفرنس نے مزید کہا کہ یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ اگست 2019 سے قبل نئی دہلی صرف کشمیر میں ہی شدید عوامی مزاحمت کا سامنا کر رہی تھی لیکن اب اسے چہار سو مسائل ، مشکلات اور مزاحمت کا سامنا ہے۔ لیہہ، کرگل اور جموں میں شدید بے اطمینانی اور بے چینی پائی جا رہی ہے اور وہ بھی اس فیصلے کیخلاف صف آرا ہو رہے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ حکومت مسلمہ عوامی آواز اور قیادت کو نظر بند اور پابند سلاسل کرکے عوام کے حقوق کو نہ صرف پامال کر رہی ہے بلکہ انہیں طاقت کے بل پر ڈرانے اور دھمکانے کا عمل جاری ہے، کالے قوانین کے بل پر گرفتاریوں کا سلسلہ برابر جاری ہے، آزادانہ طور پر پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کے حوالے سے میڈیا پر قدغن ہے اور ملازم پیشہ افراد کا مستقبل مخدوش ہے کیونکہ انہیں جبرا برطرف کیا جا رہا ہے۔ حریت کانفرنس نے کہا کہ بھارتی حکومت کو اصل حقائق کا ادراک کرتے ہوئے جموں وکشمیر کے متنازعہ مسئلہ کو حل کرنے کیلئے حقیقی قیادت، جو عوامی خواہشات کی نمائندگی کرتی ہے، کے ساتھ مذاکرات کیلئے راہ ہموار کرنی چاہئے۔ اس عمل سے شمالی اور مغربی سرحدوں کے ساتھ ساتھ سیاسی دباو کو کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔حریت کانفرنس نے بھارتی حکومت پر زور دیتے ہوئے حکومت پاکستان کے ساتھ بھی مثبت مذاکرات کا آغاز کرنے کی اپیل کی ہے اور حریت دونوں حکومتوں کے مابین بات چیت پر رضامندی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہے۔ حریت کانفرنس کی حقائق اور زمینی صورتحال کے پیش نظر یہ دیرینہ پالیسی رہی ہے کہ مسئلہ سے جڑے تمام فریقوں (Stakeholders) کے درمیان بامعنی مذاکرات ہوں کیونکہ جنگ و جدل اور تصادم کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہے جبکہ بات چیت سے ہی مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ محاذ آرائی اور جنگ و جدال نقصان دہ ہے اور یہ کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے۔ حریت نے میرواعظ عمر فاروق سمیت تمام سیاسی نظر بندوں، خصوصا نوجوانوں جنہیں مختلف قوانین کے تحت جیلوں اور عقوبت خانوں میں قید رکھا گیا ہے، کی فوری طور رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔