
بھارتی فورسز اہلکار سری نگر میں دن بھر بازار کھلوانے میں لگے رہے سینکڑوں نوجوانوں کو ہڑتال والے دن تھانوں میں بند رکھا گیا ہے فورسز نے دکانوں کے تالے توڑ کر دکانداروں کو دکانیں کھولنے پر مجبور کیا
سری نگر() بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے دوسال پورے ہونے پر یوم سیاہ کے موقع پر ہڑتال کو ناکام بنانے کی بھرپور کوشش کی مگر نکام رہی ۔ ہڑتال ناکام بنانے کے لیے سینکڑوں نوجوانوں کو ہڑتال والے دن تھانوں میں بند رکھا گیا ۔ بھارتی اخبار کے مطابق فورسز نے تجارتی مرکز لالچوک میں دکانوں کے تالے توڑ کر دکانداروں کو دکانیں کھولنے پر مجبور کیا۔ مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے میڈیا کوبتایا کہ دکانداروں کو زبردستی دکانیں کھولنے پر مجبور کیا گیا اور دھمکی دی گئی کہ انکا پٹہ ختم کیا جائے گا جبکہ آٹو رکشہ والوں کو بھی زبردستی آٹو چلانے کیلئے مجبور کیا گیا۔ محبوبہ مفتی نے بتایا کہ ہزاروں نوجوانوں کو پی ایس اے قانون کے تحت بند رکھا گیا ہے اور گزشتہ2دنوں سے کئی نوجوانوں کو تھانوں میں بندکر کے ان سے کہا گیا کہ5اگست کے بعد ہی انکی رہائی عمل میں لائی جائے گی۔ بھارتی اخبار کے مطابق سری نگر کے بیشتر علاقوں میں جمعرات کو بازار بند رہے سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی نقل و حرکت بھی متاثر رہی ۔شہر کے سول لائنز علاقوں بشمول لال چوک، بڈشاہ چوک اور مائسمہ میں تجارتی سرگرمیاں متاثر رہیں جبکہ پائین شہر کے بیشتر علاقوں بشمول جامع مسجد، نوہٹہ اور گوجوارہ میں بھی دکان اور دیگر تجارتی سرگرمیاں معطل رہیں۔ پولیس نے 5 اگست 2019 کے فیصلوں کی دوسری برسی کے موقع پر دکانداروں کو دکانیں کھلی رکھنے کو کہا تھا جب پولیس نے سری نگر میں جمعرات کو بازار بند دیکھے تو بند دکانوں کے تالے توڑنے شروع کئے اور دکانداروں کو دکان کھولنے پر مجبور کیا۔کے پی آئی کے مطابق کشمیر ٹریڈرز اینڈ مینو فیکچررزفیڈریشن کے جنرل سکریٹری بشیر احمد نے بتایا: پولیس نے سری نگر میں دکانداروں سے کہا تھاکہ 5 اگست کو دکانیں کھلی رکھنا اور اس دن کسی قسم کا کوئی احتجاج نہ کرنا۔انہوں نے کہا کہ یہ لوگوں کے خلاف ایک نفسیاتی جنگ ہے اور اس کا جنگ کا مقصد یہ ہے کہ لوگ پانچ اگست کو کوئی احتجاج نہ کریں۔