
غیرقانونی بھارتی اقدامات سے کشمیر کے بارے میں حقائق تبدیل نہیں ہوسکتے
اسلام آباد30جولائی ( )”مسئلہ کشمیر “ ایک حقیت ہے اور بھارت اپنے غیر قانونی اقدامات سے اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے سے ہرگز ہٹا نہیں سکتا اور نہ ہی اس مسئلے کے تاریخی حقائق تبدیل کرسکتا ہے۔لوگوں کا حق خود ارادیت اقوام متحدہ کے چارٹر کا ایک بنیادی اصول ہے اور مذکورہ چارٹر کا آرٹیکل 1عالمی قانون کے بنیادی اصول کی حیثیت سے حق خود ارادیت کا تحفظ کرتا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس حق کی وجہ سے لوگ اپنے سیاسی مستقبل کا تعین کرسکتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو واضح طورپر تسلیم کر رکھا ہے اور کہا ہے کہ جموںوکشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کے بارے میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بالا دستی کی بھارتی ذہنیت اسے یہ بات ماننے سے روک رہی ہے کہ کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے جس کے مستقبل کافیصلہ ایک آزادانہ اور منصفانہ استصواب رائے کے ذریعے ہونا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے بھی 1947میں کہا تھا کہ جموں وکشمیر کی تقدیر کا فیصلہ بالآخر کشمیر ی عوام نے کرنا ہے۔کے ایم ایس رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت نے 5اگست2019کو جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے تمام عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کی لیکن وہ پانچ اگست جیسے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے ذریعے کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مودی کی فسطائی حکومت مقبوضہ علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرکے اس کی الک پہچان اور شناخت ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت مانگنے کی پاداش میں بدترین بھارتی جبر و استبداد کا سامنا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جموںوکشمیر میں ایک آزادانہ استصواب رائے کے انعقاد میں ہے۔کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت جموںوکشمیر پر غیر قانونی طور پرقابض ہے اور وہ اقوام متحدہ کی قرار دوں کے ساتھ گزشتہ سات دہائیوں سے کھلواڑ کر رہا ہے جبکہ اسکے برعکس پاکستان حق خود ارادیت کی جدوجہد میں کشمیریوں کے شانہ بہ شانہ کھڑا ہے اور اس نے 5اگست 2019سے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تین مرتبہ اٹھایا ۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کشمیریوں کی خواہشات کو مسلسل نظر انداز اور اقوام متحدہ کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے لہذا اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ جموںوکشمیر کے عوام کو انکا ناقابل تنسیخ حق، حق خود ارادیت دلانے کیلئے عملی اقدامات کرے۔کے ایم ایس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر کے کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل تک جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام ہر گز ممکن نہیں لہذا عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کے پر امن حل کیلئے بھارت پر دباﺅ ڈالے۔