
عدالت نے بھارتی صحافی رانا ایوب کی ضمانت منظورکرلی
ممبئی 22 جون ( ) ممبئی ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے کیس میں جس میں ایک عمررسیدہ مسلمان شخص کو ”جے شری رام “کے نعرے لگانے پر مجبورکیاجارہا ہے، صحافی رانا ایوب کی چار ہفتوں کی عبوری ضمانت منظور کی ہے۔
اترپردیش پولیس کی طرف سے درج کی گئی ایف آئی آر میں دعوی ٰکیا گیا ہے کہ ویڈیو کو فرقہ وارانہ فسادات پیدا کرنے کے لئے وائرل کیا گیا ۔ایف آئی آر انڈین پینل کوڈ کے سیکشن 153 ، 153A ، 295A اور 120B کے تحت درج کی گئی ہے۔ایوب کے وکیل مہرڈیسائی نے جسٹس پی ڈی نایک پر مشتمل یک رکنی بینچ کو بتایا کہ درخواست گزار ایک صحافی ہے جس نے اس ویڈیو کو صرف اپنے ٹویٹر ہینڈل پر اپ لوڈ کیا۔ایوب کے علاوہ ایف آئی آر میں ٹویٹرانڈیا، نیوز ویب سائٹ”دی وائر“، صحافی محمد زبیر، کانگریس کے رہنماشمع محمد، سلمان نظامی،مشکور عثمانی او ر مصنفہ صبا نقوی کے نام شامل ہیں۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو کلپ میںعبدالصمد سیفی نامی ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ کچھ افراد نے ان پر تشدد کیا اور ان کو ”جے شری رام“کے نعرے لگانے پر مجبورکیا ۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کچھ لوگ زبردستی اس کی داڑھی کاٹ رہے ہیں۔