24 جون کی اے پی سی سے زمینی صورت حال تبدیل ہونے والی نہیں، ریاض خاور آرٹیکل370 بارے وزیر اعظم مودی اور کشمیری یہی کہیں گے معاملہ عدالت میں ہے کشمیر میں بی جے پی حکومت بنانے کا مودی کاخواب بنگال انتخابات کے بعد چکنا چور ہو چکا ہے

سری نگر( ) مقبوضہ کشمیر کے سرکردہ ماہر قانون  اور دانشور ریاض خاور نے کہا ہے کہ 24 جون کو  مودی کی صدارت میں کشمیری رہنماوں کے اجلاس میں شاید دفعہ 35 اے کی بحالی کا اعلان ہوجائے ۔  مغربی نشریاتی ادارے سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ بھارتی  حکومت شاید دفعہ 35 اے کو بھی دوسرے قانون کے تحت ڈومیسائل کی صورت میں بحال کر دے تاکہ، "وہ دنیا اور پاکستان کو یہ بتا سکے کہ ہم نے کشمیر کی پوزیشن بحال کر دی ہے اور اب بات چیت شروع کریں۔ تو عالمی برادری کو بھی یہ تاثر دینے کی کوشش ہے کہ کشمیر میں جمہوریت بحال کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کی ان تمام کوششوں کا عوام پر کوئی خاص اثر نہیں پڑنے والا اور اس سے زمینی صورت حال بھی نہیں تبدیل ہونے والی۔ خاور کہتے ہیں کہ یہ سب اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ بھارت دنیا کو یہ تاثر دے سکے کہ کشمیر میں جمہوری عمل بحال کیا جا رہا ہے کیونکہ کشمیر میں تو جمہوریت نام کی کی کوئی چیز ہے نہیں۔ مغربی نشریاتی ادارے سے  بات چیت میں انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت پر بین الاقوامی دبا کے ساتھ ساتھ اندرونی دبا بھی بڑھ رہا ہے کیونکہ مودی جی کا کشمیر میں بی جے پی حکومت بنانے کا جو خواب تھا وہ  بنگال انتخابات کے بعد چکنا چور ہو چکا ہے۔ان کا کہنا تھا،عمران خان نے بھی کہا کہ وہ اس وقت تک بھارت سے بات چیت نہیں کریں گے جب تک کشمیر کی پوزیشن بحال نہیں کی جاتی کیونکہ دونوں میں ٹریک ٹو بات چیت بھی جاری ہے، تو انہیں بھی یہ عندیہ دینے کی کوشش ہے کہ ہم نے کشمیر کو ریاست کا درجہ دے دیا ہے۔ریاض خاور کے مطابق اس کے ساتھ ہی حکومت شاید دفعہ 35 اے کو بھی دوسرے قانون کے تحت ڈومیسائل کی صورت میں بحال کر دے تاکہ، "وہ دنیا اور پاکستان کو یہ بتا سکے کہ ہم نے کشمیر کی پوزیشن بحال کر دی ہے اور اب بات چیت شروع کریں۔ تو عالمی برادری کو بھی یہ تاثر دینے کی کوشش ہے کہ کشمیر میں جمہوریت بحال کر دی گئی ہے۔” ایک سوال کے جواب میں ریاض خاور نے کہا کہ جہاں تک دفعہ 370 کی بحالی کی بات ہے تو وزیراعظم مودی یہی کہیں گے کہ یہ مسئلہ کورٹ میں ہے اور، کشمیری رہنما بھی یہی کہہ کر کام چلانے کی کوشش کریں گے کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے۔ تاہم کشمیری عوام اس کے ساتھ نہیں ہے۔ وہ اس سے عوام کا دل نہیں جیت سکتے اور نہ ہی اس سے زمینی سطح پر کوئی تبدیلی آنے والی ہے