
کل جماعتی حریت کانفرنس کی طرف سے مقبوضہ کشمیرG20سربراہ اجلاس کے بائیکاٹ کی اپیل
سرینگر11اپریل (کے پی این) غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے سرینگر میں G20سربراہ اجلاس کابائیکاٹ کرنے کی اپنے اپیل دہراتے ہوئے کہاہے کہ مودی کی بھارتی حکومت مقبوضہ علاقے میں صورتحال معمول پر آنے کے جھوٹے پروپیگنڈے کو مسلسل پھیلا رہی ہے ۔
سرینگر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کی تمام اکائیوں کے نمائندوں کے ایک غیر معمولی اجلاس میں G20ممالک کی توجہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے تلاشی اور محاصرے کی کارروائیوں کے دوران روزانہ کی بنیاد پرکشمیریوں کے قتل عام اور گرفتاریوں کی طرف جانب مبذول کراتے ہوئے کہاگیا کہ یہ سفاکانہ کارروائیاں سرینگر میں گروپ کے اجلاس میں شرکت سے انکار کیلئے کافی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر میں G20اجلاس منعقد کر کے در حقیقت اپنے5 اگست 2019کے غیر قانونی اقدامات کو قانونی حیثیت دینا چاہتا ہے۔حریت کانفرنس نے کہا کہ G20ممالک کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہندوستان کشمیر میں انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے اور ایک مقبوضہ علاقے میں گروپ کے اجلاس سے نہ صرف اقوام متحدہ کی ساکھ کو نقصان پہنچائے گا بلکہG20کے بارے میںبھی سوالات اٹھیں گے ۔اجلاس میں کہاگیا کہ مودی حکومت نے دنیا کویہ یقین دلانے کیلئے کہ مقبوضہ علاقے میں حالات معمول پر ہیں حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اجلاس میں حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد کو تیز کرنے کیلئے حریت کانفرنس کی اکائیوں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کیلئے ایک ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔حریت رہنمائوں نےG20 ممالک کے علاوہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل سے مطالبہ کیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کا ایک قابل عمل حل تلاش کرنے کیلئے ایک خصوصی نمائندہ مقرر کریں ۔