
سرینگر میں جی 20 کے مجوزہ اجلاس کے خلاف 22 مئی کو کنٹرول لائن کے دونوں اطراف ہڑتال کی جائے گی
اسلام آباد 08 مئی (کے پی این) سرینگر میں جی 20 کے مجوزہ اجلاس کے غیرقانونی اقدام کے خلاف22 مئی کو مقبوضہ جموں و کشمیر اور آزاد جموں وکشمیر میں مکمل ہڑتال کی جائے گی جبکہ بیرون ملک مقیم کشمیری اس دن دنیا کے تمام بڑے دارالحکومتوں میں بھارت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کریں گے۔
ہڑتال کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ بھارت میں مودی کی زیر قیادت ہندوتوا حکومت بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقے میں گروپ 20 کا اجلاس منعقد کر رہی ہے۔ نئی دہلی نے 22 مئی سے 24 مئی تک مقبوضہ علاقے میں اجلاس کا منصوبہ بنایا ہے۔ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کا فیصلہ کل جماعتی حریت کانفرنس اور آزاد جموں وکشمیر کی قیادت نے ایک مشترکہ اجلاس میں کیا جس میں آزاد جموں و کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اور کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ کی قیادت نے شرکت کی۔اجلاس میں مشترکہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ سرینگر میں گروپ 20 کے اجلاس کے موقع پر آزاد جموں و کشمیر کے ساتھ ساتھ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھی مکمل ہڑتال کی جائے گی جبکہ عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ علاقے میں بڑے پیمانے پر جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی طرف مبذول کرانے کے لیے نیویارک، لندن، واشنگٹن، برسلز،جنیوا اور دنیا کے دیگر بڑے شہروں میں بھارت مخالف مظاہرے کیے جائیں گے ۔ اجلاس میں کہا گیا کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر میں اپنے مظالم میں تیزی لائی ہے۔اس موقع پر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ انہوں نے 20 ممالک کے گروپ کے نام اپنے خط میں واضح کیا ہے کہ سرینگر میں اس کا اجلاس منعقد کرنا اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے کیونکہ جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر تحریک آزادی کا بیس کیمپ ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادجموں وکشمیر شاخ کے کنوینر محمود احمد ساغر، غلام محمد صفی، شیخ عبدالمتین، الطاف حسین وانی،ایڈوکیٹ پرویز احمد، امتیاز احمد وانی، اعجاز احمد شاہ اور برطانوی ارکان پارلیمنٹ عمران حسین، طاہر علی، کونسلر کامران اور توقیر نے بھی اجلاس سے خطاب کیا۔