
علی گیلانی نے کبھی اپنا موقف نہیں بدلا۔غلام محمد صفی علی گیلانی کسی بھی قسم کے کمپرومائز کے قائل نہیں تھے
اسلام آباد() تحریک حریت جموں وکشمیر کے کنوینئر برائے آزاد کشمیر پاکستان غلام محمد صفی نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ سید علی گیلانی نے اپنی زندگی میں جو عملی نمونہ دنیا کے سامنے رکھا ہے، اس میں یہ چیز کھل کر سامنے آتی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے کمپرومائز کے قائل نہیں تھے۔ وہ بالکل واضح انداز میں حق خودارادیت کی بات کرتے تھے اور بسا اوقات اپنے بھی ان سے ناراض ہو جاتے تھے۔ غیر ملکی نیوز پورٹل سے بات چیت میں غلام محمد صفی نے کہا کہ پاکستان کے سابق صدرپرویز مشرف نے ان کے ساتھ سافٹ بارڈرز کی بات کی اور اسی طرح دیگر کئی لوگ مسئلہ کشمیر کا آدھا تیتر اور آدھا بٹیر والا حل لے کر آتے رہے لیکن علی گیلانی نے کبھی اپنا موقف نہیں بدلا۔غلام محمد صفی کا کہنا ہے کہ اب علی گیلانی کی جگہ وہی لے سکتا ہے جو انہی کی طرح کشمیریوں کے حق خودارایت کے بارے میں واضح موقف رکھتا ہو اور اس معاملے میں وہ کسی کو خاطر میں نہ لائے خواہ کوئی راضی ہو یا ناراض۔ انہوں نے بتایا کہ علی گیلانی کو انڈیا نے کئی طرح کی پیشکشیں کیں لیکن انہوں نے کہا تھا کہ انڈیا اگر کشمیر کی سڑکوں پر سونا اور چاندی بھی بچھا دے، ہم پھر بھی اپنے حق خودارادیت کے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔اس وقت انڈیا نے کوشش کی ہے کہ تاثر دیا جائے کہ اب حریت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے لیکن میں یہ بتایا چاہتا ہوں کہ جو رہنما جیلوں میں ہیں ان کا نظریہ کچھ بھی ہو، انڈیا ان سب کو سولی پر نہیں چڑھا سکتا۔ یہ لوگ جلد یا بدیر باہر آئیں گے۔