
دلی فسادات : گرفتار طلبا رہا، جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ
نئی دلی 18 جون ( ) بھارتی دارلحکومت نئی دلی میں فسادات کے مقدمے میں انسداد دہشت گردی کے قانون یو اے پی اے کے تحت گرفتار طلباءکارکن نتاشا ناروال ، دیونگنا کالیتا اور آصف اقبال نے ضمانت پر رہائی کے بعد کہا ہے کہ انہیں دلی کی تہاڑ جیل میں بھی زبردست حمایت ملی ہے اور وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انہیں گزشتہ روز جیل سے ضمانت پر رہاکیاگیا ۔جیل کے باہر موجود ان کے اہلخانہ اور دوستوںنے پوسٹر اٹھا رکھے تھے جن پر تمام ”سیاسی نظربندوںکی رہائی “کا مطالبہ درج تھا۔ رہائی کے بعد نتاشا اور دیونگنا کے دوست ان سے گلے ملے ۔آصف جو امتحانات کی وجہ سے عبوری ضمانت پر تھا کو واپس تہاڑ جیل لاکر رہا کیا گیا۔آصف کے دوستوں نے ان کی اپنی والدہ سے ویڈیو کال پر بات کرائی اور والدہ نے اس موقع پر کہا کہ انہیں اپنے بیٹے پر فخر ہے۔ نتاشا نے بتایا کہ انہیں رہائی سے قبل پریشانی کا سامناکرنا پڑا کیوں کہ ان کی رہائی کے دلی ہائی کورٹ کے حکم پر عمل درآمد میں پولیس تاخیر کر رہی تھی ۔ان کی گرفتاری کے معاملے پر شدید عوامی ردعمل کی وجہ سے انہیں جیل میں ہراساں کیاگیا ۔ انہوںنے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوںنے افسوس ظاہر کیاکہ ان کے گرفتاری کے دوران نتاشا کے والد کا گزشتہ ماہ انتقال ہو گیا تھا اور اسے ان کی آخری رسومات میں شرکت کیلئے عبوری ضمانت پر رہا کیاگیا تھا ۔ دیونگانا نے رہائی کے بعد کہاکہ انہوںنے اختلاف رائے اور احتجاج کے حق کاجومعاملہ اٹھایا ہے وہ بہت اہم ہے ۔ انہوںنے کہاکہ جیل میں گزارا گیا ایک سال بہت مشکل تھا تاہم وہ خوش قسمت تھے کہ ان کے پاس ان کے دوست تھے۔ آصف نے کہا کہ جیل میں لوگوںنے انہیں "دہشت گرد اور جہادی” کہا تاہم وہ گھبرائے نہیں کیونکہ ان کا موقف بالکل درست تھا ۔ انہوںنے کہاکہ اگرچہ جیل میں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم وہ جانتے تھے کہ ایک دن ضرور وہ رہا ہوجائیں گے