کشمیری سرکاری ملازمین کی بھارتی سلامتی کے مفاد میں برطرفی کا عمل تیز ہائیر سیکنڈری سکول کے پرنسپل اور ڈی ایس پی جیل خانہ جات کو برطرف کر دیا گیا جموں وکشمیر میں چھے ماہ کے دوران دو درجن سے زیادہ ملازمین کو برطرف کر دیا گیا

سری نگر() بھارتی سلامتی کے مفاد میں کشمیری سرکاری ملازمین کی برطرفی کا عمل تیز ہو گیا ہے ۔ بھارتی حکومت نے  بھارت کی سلامتی کے مفاد میں مزید دو کشمیری سرکاری ملازمین کو ملازمت سے بر طرف کردیا ہے۔ قابض حکام نے منگل کے روز جنوبی کشمیر میں  محکمہ جیل خانہ جات کے ایک ڈی ایس پی   فیروز احمد لون اور بجبہاڑہ کے گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول کے پرنسپل جاوید احمد شاہ کو   حریت پسندوں کے ساتھ روابط رکھنے کے الزام میں برطرف کر دیا۔ ۔ انہیں بھارتی آئین کی دفعہ311 کے تحت ملازمت سے نکالاگیا ہے جس کے تحت برطرفی سے پہلے کوئی تحقیقات نہیں کی جاتی۔ ڈی ایس پی فیروز احمد ساکن چرار شریف 2014میں بھرتی ہوئے ہیں اور وہ فی الوقت بارہمولہ سب جیل میں تعینات ہیں۔جاوید احمد شاہ 1990میں درگاہ محاصرے کیخلاف وادی بھر میں ہوئے احتجاج کے دوران بجبہاڑہ قتل عام کے دن شدید زخمی ہوئے تھے  وہ بیساکھی کے سہارے  چلتے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ  ان کے والد کا تعلق  جماعت اسلامی سے تھا  تاہم وہ کئی سال قبل فوت ہوگئے تھے ۔ بھارتی حکومت  دور درجن سے زیادہ  ملازمین کو برطرف کر چکی ہے ،جن ملازمین کو ملازمت سے فارغ کیا گیا ہے انہیں اپنا دفاع کرنے یا اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا ہے۔کے پی آئی  کے مطابق ملازمین کی برطرفی کے لیے بھارتی آئین کی دفعہ 311 کی ذیلی شق 2 (سی) کا سہارا لیا گیا ہے جس کے تحت بھارت کے صدر یا ریاست کے گورنر تحقیقات کے بغیر کسی بھی سرکاری ملازم کو ملک کی سلامتی کے مفاد میں ملازمت سے فارغ کر سکتے ہیں۔پانچ اگست 2019 (وہ دن جب کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی گئی) سے قبل بھارتی آئین کی دفعہ 311 کا کشمیر پر اطلاق نہیں ہوتا تھا۔ بھارتی حکومت نے متذکرہ دفعہ کے تحت کشمیر میں ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں سینکڑوں ملازموں کو برطرف کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے۔ مئی میں  گورنمنٹ ڈگری کالج وومن ادھم پور میں تعینات جغرافیہ کے اسسنٹ پروفیسر ڈاکٹر عبدالباری نائیک، پلوامہ کے نائب تحصیلدار نذیر احمد وانی اور گورنمنٹ مڈل سکول کرالپورہ کپوارہ میں تعینات ٹیچر ادریس جان  کو برطرف کیا گیا تھا۔قبل ازیں سال 1986 میں جموں و کشمیر کے اس وقت کے گورنر جگموہن ملہوترا نے ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے پاداش میں کئی سرکاری ملازموں کو برطرف کیا۔ ان میں حریت رہنما  پروفیسر عبدالغنی بٹ بھی شامل تھے۔