غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموںوکشمیر میںبھارت مخالف مظاہرے روکنے کیلئے سخت پابندیاں نافذ

سرینگر فوجی چھائونی میں تبدیل

سرینگر  غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قابض حکام نے آج بھارت کے یوم آزادی پر لوگوں کو بھارت مخالف مظاہروں سے روکنے کیلئے سخت پابندیوں کا نفاذ بدستور برقرار رکھاہوا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حکام نے ہر طرف بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کر کے وادی کشمیر خاص طور پر سرینگر کو ایک فوجی چھائونی میں تبدیل کر دیا ہے۔بھارت مخالف مظاہروں کو روکنے کیلئے سرینگر کی سنسان سڑکوں پر ہزاروں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار گشت کر رہے ہیں۔ سرینگر کے علاقے سونہ وار میں قائم کرکٹ سیڈیم جہاں بھارتی یو م آزادی کی سرکاری تقریب کا انعقاد کیا گیا کو عملی طور پر ایک قلعے میں تبدیل کیا گیا ۔سٹیڈیم کے اطراف میں واقع اونچی عمارتوں پر سنیپر شوٹرز کو تعینات کیا گیاہے۔

شہر میں بیسیوں نئے بنکر قائم کیے گئے جہاں بھارتی فوجی لوگوں کی جامہ تلاشی لے رہے ہیں۔ شہر میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے بھی لوگوں کی نقل وحرکت پر نظر رکھی جا رہی ہیں۔ سراغ رساں کتوں اور بمبوں کو ناکارہ بنانے والا عملے کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیںجبکہ موبائل ڈرون کیمرے بھی شہر کی فضا میں نظر آرہے ہیں۔مقبوضہ وادی کے دیگر علاقوں میں بھی سیکورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے ہیں جبکہ سرینگر جموں شاہراہ پر بھی حفاظی اقدامات بڑھا لیے گئے ہیں۔یاد رہے کہ بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں گزشتہ برس پانچ اگست سے تیز رفتار فورجی انٹرنیٹ سروس معطل ہے جب بھارتیہ جنتاپارٹی کی فسطائی بھارتی حکومت نے علاقے کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی۔ فور انٹرنیٹ سروس کی عدم دستیابی کے باعث کشمیری عوام خاص طور پر صحافی ، طلباء، تاجری برادری اور شعبہ طب سے وابستہ افراد سخت مشکلات سے دوچار ہیں۔دریں اثنا کنٹرول لائن کے دونوں جانب ور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طورپر منارہے ہیں جسکا مقصد عالمی برادری کو یہ یہ پیغام دینا ہے کہ کشمیری اپنی سرزمین پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کو مسترد کر تے ہیں۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموںوکشمیرمیں آج مکمل ہڑتال ہے جسکی کال بزرگ کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی، کل جماعتی حریت کانفرنس اور میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی میں قائم حریت فورم نے دی ہے۔