
ملک ریاض پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ
بحریہ آئیکون ٹاور ریفرنس، احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے 21 اگست کو تمام ملزمان کو طلب کرلیا
عدالت نے ملک ریاض کے داماد شریک ملزم زین ملک کی عدم گرفتاری پر برہمی کا اظہارکیا۔ فاضل جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ نیب نے زین ملک کو گرفتار کیوں نہیں کیا زین ملک اور ڈاکٹر ڈنشاہ 50 فیصد کے پارٹنر ہیں، نیب کا رویہ تمام ملزمان کے ساتھ مساوی کیوں نہیں ہے، آئیکون ٹاور کیلئے جس وزیراعلیٰ نے زمین کی منظوری دی وہ کہاں ہی کیا ریاست کی زمین پر شاندار عمارت بنانا درست ہی ۔نیب پراسیکوٹر نے دوران سماعت مؤقف اختیار کیا کہ آئیکون ٹاور کیلئے باغ ابن قاسم کی زمین الاٹ کی گئی۔ ملزم کے وکیل میاں عبدالروف ایڈوکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر ڈنشاہ ستمبر 2008ء میں وزیراعلی کے مشیر بنے، بحریہ آئیکون کیلئے زمین اپریل 2008ء میں الاٹ ہوئی۔ فاضل جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ کیا مشیر بننے سے پہلے ڈاکٹر ڈنشاہ کی حکومت کے ساتھ دشمنی تھی ایسی بات نہ کریں جس سے آپ کا کیس کمزور ہو۔ جسٹس قاضی امین نے کہا کہ ایسی باتوں کیلئے دستاویزات دیکھنے کی ضرورت نہیں، سب کچھ نوشتہ دیوار ہے۔