مقبوضہ کشمیر میں طاقت کے وحشیانہ استعمال کی مذمت

کل جماعتی حریت کانفرنس نے مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں بھارتی فوج کی طرف سےطاقت کے وحشیانہ استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی عوام کوتنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے مطالبے پر اجتماعی سزا دی جارہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس نےحریت ترجمان کے حوالے سے بتایا ہےکہ بھارتی فوج نے سرینگر کے علاقے پنزی نار میں محاصرے اورتلاشی کی کارروائی کے دوران بیسیوں نوجوانوں کو زخمی کیااور لاکھوں روپے مالیت کی املاک کو نقصان پہنچا یا۔ حریت ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ خطے میں مسلسل خون خرابہ تنازعہ کشمیر کےحل نہ ہونے کا نتیجہ ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ جنوبی ایشیامیں پائیدارامن کے قیام کیلئے تنازعہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے۔
جموں وکشمیر یوتھ سوشل فورم کا وفدشہید اشفاق راشد خان کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کیلئے سرینگر کے مضافاتی علاقے ناربل گیا ۔ اشفاق راشد کو فوج نے سرینگر کے علاقے رنبیر گڑھ میں شہید کیاتھا۔ وفدمیں غلام رسول کلو ، توصیف احمد ، فیصل احمد اور زبیر احمد شامل تھے۔
حریت رہنما میر شاہد سلیم نے ایک بیان میں جیلوں میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسزکے پیش نظر سیاسی نظربندوں کے تحفظ کے حوالے سے شدید تشویش کااظہارکرتےہوئےعیدالاضحیٰ سے قبل ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ نامعلوم مسلح افراد نے شوپیاں میں بھارتی فوج او رپولیس کی مشترکہ پارٹی پر فائرنگ کی ۔ واقعے کے بعد بھارتی فوج نے پور ے علاقے کا محاصرہ کر کے گھر گھر تلاشی کی کارروائی شروع کردی۔
نئی دلی میں قائم تنظیم ”فورم فار ہیومن رائٹس ان جموں کشمیر “ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جموں وکشمیر میں صورتحال بھارتی حکومت کے دعوے کے برعکس ہےاور ریاست کی مجموعی صورتحال 2014سے ابتر ہونا شروع ہوئی ۔

via ptv news