کشمیری پنڈتوں کے وادی سے انخلا پرپابندی،محفوظ زون قائم ہوں گے

سری نگر(کے پی اين) بھارتی حکومت نے کشمیری پنڈتوں کے وادی سے انخلا پرپابندی لگاتے ہوئے  پنڈتوں کی رہائش کے لیے آٹھ سے زائد انتہائی محفوظ زون قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کی زیر صدارت نئی دہلی میں ایک اعلی سطحی اجلاس میں بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول، بھارتی فوج کے سربراہ جنرل منوج پانڈے اور مقبوضہ جموںوکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا ،بھارتی ہوم سیکرٹری اجے کمار بھلا، انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر اروند کمار، سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے ڈائریکٹر جنرل کلدیپ سنگھ، بارڈر سیکیورٹی فورس کے سربراہ پنکج سنگھ اور مقوضہ علاقے کے ڈائریکٹر جنرل پولیس دلباغ سنگھ سمیت دیگر اہم  شخصیات نے کئی  گھنٹے تک جموں وکشمیر کی صورت حال پر غور کیا۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ کشمیری پنڈتوں کو وادی میں معقول سیکورٹی فراہم کی جائے گی اس سلسلے میں اضافی اہلکاروں کی تعیناتی بھی عمل میں لائی جائے گی  ۔ یہ اجلاس مقبوضہ وادی کشمیر میں نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں آٹھ ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ واقعات تناظر میں بلایا گیا تھا۔دریں اثنا تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بھارتی حکومت پنڈتوں کو سرائیلی طرز پر مقبوضہ علاقے میں الگ کالونیوں میں بسانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔انہوںنے مقبوضہ علاقے میں کشمیری پنڈتوں پر ظلم و ستم کے بھارتی بیانیے کو رد کرتے ہوئے اسے محض جھوٹ اور پروپیگنڈہ قرار دیا۔ انہوںنے کہا کہ کشمیری مسلمان پنڈتوں کی وادی میں واپسی کے متمنی ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ پنڈت الگ کالونیوںمیں رہنے کے بجائے پہلے کی طرح انکے ساتھ بھائی چارے اور ہم آہنگی کے ساتھ رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے حق پر مبنی کشمیری کی تحریک کو فرقہ واریت کا رنگ دینے کیلئے پنڈیوںکو خود مقبوضہ وادی سے نکالا تھا۔