کشمیری گجر اور بکروال مسلمان خاندانوں سے17 ہزار 704 ایکٹر اراضی خالی کا عمل تیز بھارت نے اراضی پر تعمیر کچے گھروں کو مسمار کر کے مکینوں کوبے دخل کرنے کی مہم کا دائرہ بڑھا دیا پہلگام میں صدیوں سے رہائش پزیر خاندانوں کے گھر تباہ ،سیب کے سیکڑوں درختوں کو بھی کاٹ دیا گیا

سری نگر: بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے مسلم اکثریتی تشخص کے خا تمے کے لیے صدیوں سے جنگلات میں رہائش پزیر گجر اور بکروال مسلمان خاندانوں کے 64 ہزار افراد  سے 17 ہزار 704 ایکٹر اراضی خالی کرانے کا عمل تیز کر دیا ہے ۔ وائس آف امریکہ کے مطابق بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں محکمہ جنگلات اور محکمہ مال کے حکام نے گجر اور بکروال خاندانوں کے جنگلات کی اراضی پر تعمیر کچے گھروں کو مسمار کرنے اور انہیں بے دخل کرنے کی مہم کا دائرہ بڑھا دیا ہے۔اس مہم کا آغاز جموں و کشمیر کے گرمائی صدر مقام سرینگر سے 100 کلو میٹر جنوب میں واقع پہلگام حلقے کے لِدرو اور مامل نامی علاقوں سے کیا گیا تھا۔کشمیر کے گجر اور بکروال قبائلی خاندان صدیوں سے ہمالیائی ریاست کے نگلات کی اراضی پر تعمیر کچے گھروں میں، جنہیں مقامی طور پر کوٹھے کہتے ہیں، رہائش پذیر ہیں۔مہم کے دوران ایک کنبے کے لگائے گئے سیب کے سیکڑوں درختوں کو بھی کاٹ دیا گیا ہے۔ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں خانہ بدوش کنبے موسم گرما کے آغاز پر اپنے مال مویشیوں سمیت جموں کے میدانی علاقوں سے وادی کشمیر کے بالائی علاقوں کا رخ کرتے ہیں اور یہاں پانچ سے  چھ ماہ گزارنے کے بعد واپس جموں کے راجوری اور دوسرے میدانی علاقوں کو لوٹ جاتے ہیں۔یہ وادی کشمیر کے ان بالائی علاقوں میں پتھر اور لکڑی کی بنی جھونپڑیوں میں رہتے ہیں۔ تاہم برف باری کے آغاز سے پہلے ہی وہ یہ علاقہ چھوڑ کر نسبتا گرم علاقوں کی راہ لیتے ہیں۔ کشمیری جماعتوں اور سماجی و انسانی حقوق تنظیموں نے اس مہم کو غیر انسانی اور غیر اخلاقی قرار دے کر شدید احتجاج کیا ہے۔کے پی آئی  کے مطابق سابق وزیرِ اعلی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ان علاقوں میں جاکر متاثرین سے یکجہتی کااظہار کیا۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ قبائلی خاندانوں کے خلاف یہ مہم ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کی سر پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی مسلم دشمنی کی عکاس ہے۔ جس کا مقصد جموں و کشمیر کے مسلم اکثریتی کردار کو تبدیل کرنا ہے۔ بھارتی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر کی ‘اراضی قوانین’ میں حال ہی میں کی گئی ترامیم اور نئی شقوں کا اندراج اور ایک کے بعد دوسرے نئے قوانین کا نفاذ بھی اسی مقصد کے تحت ہو رہے ہیں۔بھارت کی وزارتِ داخلہ نے حال ہی میں جموں و کشمیر کے اراضی قوانین میں بڑے پیمانے پر رد و بدل کر کے تمام بھارتی شہریوں کو وادی میں اراضی خریدنے اور دیگر غیر منقولہ جائیداد کا مالک بننے کا اہل بنا دیا ہے۔اس کے خلاف احتجاج میں جہاں مختلف بھارت نواز سیاسی جماعتیں جو مقامی سیاسی اصطلاع میں بھارت کے مرکزی دھارے میں شامل جماعتیں کہلاتی ہیں، پیش پیش رہی ہیں۔وہیں استصواب رائے کا مطالبہ کرنے والی کشمیری جماعتوں نے نئے قوانینِ اراضی کو بھارت کی حکومت کی ان کوششوں کی تازہ کڑی قرار دیا جن کا مقصد ان کے بقول ریاستی عوام کو ان کی زمینوں سے بے دخل اور مسلم اکثریتی ریاست کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔’متاثرین میں شامل کئی افراد کا کہنا تھا کہ انہیں سیاست میں دلچسپی ہے اور نہ اس طرح کے الزامات یا جوابی الزامات سے کوئی سروکار ہے۔ بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ اس معاملے کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دیکھا جائے۔پہلگام کے مامل علاقے کے ایک شخص فردوس احمد نے بتایا کہ وہ جنگلات کی اراضی پر نسل در نسل آباد ہیں۔ اب انہیں طاقت کے زور پر بے دخل کیا جا رہا ہے اور یہ سوچے بغیر کہ ہم اس شدید سردی میں کہاں جائیں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے گھروں کو اچانک اور بغیر کسی پیشگی اطلاع یا تنبیہ کے مسمار کیا گیا۔ وی او اے کے مطابق متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ جنگلات کی اراضی پر غیر قانونی قبضہ اور گھر تعمیر کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے انہیں اس سلسلے میں باضابطہ نوٹس جاری کیے گئے تھے محکمہ جنگلات  کے مطابق جموں و کشمیر میں 64 ہزار افراد نے جنگلات کی 17 ہزار 704 ایکٹر اراضی پر غیر قانونی طور پر قبضہ کیا ہوا ہے۔