
چوہے اور عمران خان کا گلا
ویسے عمران خان کی مقبولیت کا گراف گرنے لگتا ہے تو ایک آدھ واقعات ایسے ہو جاتے ہیں جو اسے سنبھالا دے دیتے ہیں۔خیر سے شریف فضل اور آصف زرداری کی اپنی حرکتیں تو ہیں ہی اس قابل کے لوگ پھر عمران خان کی جانب پلٹ جاتے ہیں۔عمران خان بھی نے نئے حربے آزماتے ہیں جس سے اپوزیشن بوکھلا کے رہنجاتی ہے ابھی اس نے ایک نیا کام کیا ہے کہ اپنے ہی منسٹرز کا آپس میں مقابلہ کروا دیا ہے جس سے اس کے سلو منسٹر تو پریشان ہوئے ہی مخالفین کی صفوں میں ہل چل مچ گئی ہے۔وہ کیا کہتے ہیں کہ عمران خان کو دشمنوں کی ضرورت نہیں اسے اس نکھٹو میڈیا سے ہی ایسے لوگ مل جاتے ہیں جو اس کو سنبھالا دے دیتے ہیں۔مراد سعید کے بارے میں ریحام خان نے جو کچھ لکھا اگر اس پر لوگ کان دھرتے تو عمران خان کب سے اقتدار سے باہر چلے گئے ہوتے۔جن دنوں ریحام خان کی کتاب کے چرچے تھے ایک صاحب نے مجھ سے ٹی وی پر پوچھا کہ کتاب آنے سے کیا آپ سمجھتے ہیں عمران خان ،،برباد،، ہونے جا رہے ہیں جس کے جواب میں کہا تھا بابا لوگ رحمان کی کتاب کو پڑھ کر نہیں سمنبھلے ریحام خان کیا بیچتی ہے۔
اب آپ اندازہ لگائیں ایک ٹی وی شو میں ایک جانی پہچانی اینکر جن کے قصے زبان زد عام ہیں وہ گرما رہی تھیں کہ کہ مراد سعید کو وجہ سے نمبر ون ہیں۔ان محترمہ سے کوئی پوچھے حکومت عمران کی وزیر اس کے اگر انہوں نے مسابقت اپنے ہی وزیروں کے درمیان کرائی ہے تو آپ کو کیا تکلیف ہے علی محمد خان فواد چوہدری یا کسی اور منسٹرز کو کوئی تکلیف ہے تو وہ بات تو سمجھ آتی ہے آپ کو مراد سعید سے کیا چڑ ہے ؟مراد سعید کی پرفارمینس سب کے سامنے ہے۔اس نے اس ملک کو سستی موٹر ویز دی ہیں اگر اس نے نے موثر ویز پر قائم سروس جگہیں اوپن بڈ پر لوگوں کو بیچ کر کروڑوں روپے صرف ایک جگہ سے کما کر دئے ہیں تو اس ملک کا بھلا کیا ہے۔جہاں کہیں موٹر ویز یا ہائی ویز پر مہنگے ٹول ٹیکس کئے ہیں تو حضور یہ نواز شریف دور کے معاہدے ہیں۔جس طرح مہنگی بجلی کے منصوبے پیپلز پارٹی اور نواز شریف دور میں طے ہوئے اور مہنگی بجلی خریدی گئی ایسے ہی 2035 تک دس فی صد مہنگا ٹول ٹیکس ادا کرنے ہوں گے۔
میری تجویز ہو گی کہ ہر اس ٹول پلازے پر جہاں ماضی کی حکومت کے معاہدے کے تحت مہنگا ٹول دینا پڑے تو وہاں لکھا ہونا چاہئے کہ ،،معزز صارف آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ مہنگا ٹول نواز شریف کی حکومت کی جانب سے طے شدہ ہے ،، اس طرح مہنگی بجلی کے بارے میں بھی بجلی کے بل کے اوپر لکھا جائے کہ مہنگی بجلی کا کارن پیپلزپارٹی کے فلاں وزیر اعظم ہے۔
لوگوں کو اب لکھ کر بتایا جائے کہ راجہ پرویز اشرف کو راجہ رینٹل کیوں کہا جاتا ہے اور مہنگا ٹول ٹیکس وزیر اعظم نواز شریف نے کیا ہے۔اس مہنگائی کی وجہ اب باتوں سے نہیں لکھ کر ہر شخص کے ہاتھ میں دیا جائے کہ ماضی کی کس حکومت نے آپ کا بیڑہ غرق کیا ہے۔قوم جاننا چاہتی ہے کہ مہنگائی کیوں ہے ؟
پہلی بات ہے کہ عمران خان خان اس بات کو تسلیم۔کریں کہ مہنگائی ہے۔خدا را ایسے چاپلوسوں سے بچیں جو یہ کہتے ہیں کہ مزدور کی دیہاڑ پہلے چھ سو تھی اور اب ایک ہزار ہے۔میں نے مزدوروں کے درمیان بیٹھ کر دیکھا ہے وہ بے چارے ایک ہزار کما۔کر بھی ناخوش ہیں۔ماضی سے مہنگائی تین سو فی صد زیادہ ہے۔آپ آٹا چینی گھی دالوں کی قیمتیں دیکھ لیں۔اج سے چار سال پہلے کی قیمتوں سے ہر چیز تین سو سے چار سو فی صد زیادہ ہو چکی ہیں۔کرونا نے پوری دنیا کو مہنگائی کی زد میں لے لیا ہے آپ جب تک یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ مہنگائی ہے تو خدا کی قسم لوگ آپ سے شدید نفرت کریں گے۔مانیں کے مہنگائی ہے اور مانیں کے لوگوں کے ذرائع آمدن بہت کم ہیں۔اس۔کے بعد اس کی وجوہات تلاش کریں۔
پاکستان میں دو طرح کی مہنگائی ہے ایک عالمی کساد بازاری کی وجہ سے اور دوسری مصنوعی مہنگائی ہے
میں بیسیوں مرتبہ لکھ چکا ہوں کہ مصنوعی مہنگائی نے عوام۔کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے۔میں نے ایک بار بکرا۔کنڈی چوک میں سو روپے کے دو درجن کیلے خریدے اور وہی کیلے ایئر پورٹ سوسائٹی میں سو روپے کے ایک درجن ہیں۔اسے کس نے کنٹرولکرنا ہے ؟ جناب یہ کام ڈی سی کاہے۔
میں اپ کولکھ کے دیتا ہوں کہ بیوروکریسی کے منہ زور گھوڑے کو لگام نہیں دیا جا سکا۔ایک اے سی کو فردوس عاشق اعوان نے جھنجھوڑا تو پوری بیوروکریسی اس کی پشت پر کھڑی ہو گئی۔بی بی عاشق اعوان اب گھر بیٹھ گئی ہیں اور ویگو ڈالے میں بیٹھی آئے سی کی گردن میں پہلے سے زیادہ تگڑا سریہ موجود ہے۔کسی کی جرائ ت نہیں کہ ڈی سی اور اے سی کو کنٹرول کرسکے ۔ساری گالیاں ساری برائیاں سیاست دان اور منسٹرز سمیٹیں گے ان آفیسرز کے بارے میں کسی کی جرائ ت نہیں کہ ان سے کوئی پوچھے سکے ۔میں جس سوسائٹی میں رہتا ہوں یہاں پر سارا قبضہ گروہ کو آپریٹو کے افسروں کی نگرانی میں زندہ ہے۔مجال گئی کوئی ان سے پوچھ سکے۔میٹینگز میں دس بار شور شرابہ کر چکا ہوں لیکن مجال ہے ان کے کان پر کوئی جوں رینگے؟اوپر سے منتحب نمائیندے بھی ان کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں۔بیوروکریسی کے بے لگام گھوڑے نے ملک کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔جعلی مہنگائی نے عوام۔کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے۔منڈی سے صارف تک چیزوں کی قیمتوں میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔اس فرق کو دور کرنا اشد ضروری ہے۔
باقی عمران خان کو یہ لٹیروں چوروں کا گروہ کچھ نہیں کہہ سکتا اس لئے کہ ان کے منشیوں کے اکائونٹس میں اربوں آ گئے اور نظام ان کاکچھ نہیں بگاڑ سکا انہیں اس عوام سے کوئی غرض نہیں جب تک ان کی گردنوں تک پھندے نہیں پہنچتے اس سسٹم سے فائیدہ اٹھانے والے مزے میں رہیں گے۔
اس ملک کا ایک بڑا طبقہ اس بات سے مطمئن ہے کہ یہ لوگ ان کے مقصود ان کے پاپڑ والے کو کچھ نہیں کہتے انہیں کچھ نہیں کہتے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ایک عمران خان انہیں چور ڈاکو اور لٹیرا کہتا ہے۔پاکستان کو پر امن انقلاب کی نہیں خونیں انقلاب کی ضرورت ہے۔ایسا انقلاب جو ایران کے خمینی کے ایام کی یاد تازہ کرے۔چین کے نظام جیسا ہو جو کرپشن پر پھانسی دے جو سعودی عرب کے محمد بن سلمان جیسا شکنجہ تیار کرے۔ہوٹلوں میں لٹیروں کو بند کرے اڑ کر بھاگ جانے والوں کو شکنجے میں کسے۔
وہاں لٹیروں نے دولت اگلی اور جان چھڑائی۔
پاکستان کا موجودہ نظام ایک مذاق سے کم نہیں ملک کا سب سے بڑا لٹیرہ پچاس روپے کے اسٹامپ پر بھاگ جاتا ہے۔اور یہ آپ سب اسی سسٹم کے ذریعے ڈھیل دیتے ہیں۔صرف ججوں کو برا بھلا کیسے کہا جاسکتا ہے آخر نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ بنی تھی اور کس نے بنائی تھی یہ تو کسی عدلیہ کے جج نے نہیں کہا تھا کہ رپورٹ میں ایسا نقشہ کھینچو جس سے سے مجھے ضمانت دینا آسان ہو جائے ۔جج کا کام یہ نہیں کہ وہ لیبارٹریوں کا مقابلہ کرائے جو اس کے سامنے رکھا گیا اس پر فیصلہ دے دیا گیا۔کیا دن تھے ایسا لگ رہا تھا کہ نواز شریف گئے کے گئے۔ہماری بد قسمتی دیکھیئے ہمارے نیلسن منڈیلے بھی چکری نکلے۔
اس پاکستان کا کوئی ادارہ کوئی محکمہ نہیں چاہتا کہ یہ ملک سدھرے۔سب کے سب اس ملک کی بربادی میں برابر کے حصہ دار ہیں۔ پاکستان کے اونٹ کی کوئی کل نہیں سیدھی اور نہ کوئی چاہتا ہے کہ سیدھی ہو
لڈو کی اس بساط میں کبھی عمران خان 97سے ڈنگ کھاکر23 پر آتے ہیں اور کبھی 13 کی سیڑھی سے 93 پر پہنچتے ہیں۔دیکھنا ہے پاکستان کب جیت کے خانے میں (باقی صفحہ 7بقیہ نمبر 1)
جاتا ہے۔
البتہ یہ جو بساط بچھی ہے اس کھیل میں چند چوہے جو کردار ادا کر رہے ہیں یاد رکھیں عمران خان کے گلے میں گھنٹی نہیں باندھ سکیں گے