
مذاکرات کو با اعتباربنانے کے لئے جموں و کشمیر میں ظلم وجبر ختم ہونا چاہیے: محبوبہ مفتی
نئی دہلی 28 جون () پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے مقبوضہ جموںوکشمیر کی علاقائی قیادت کے ساتھ شروع کئے گئے مذاکرات پراس وقت اعتبارکیا جائے گا جب جموں و کشمیر میں ظلم وجبر ختم ہو اوراس بات کو سمجھا جائے کہ اختلاف رائے کوئی جرم نہیں ہے۔
نئی دہلی میں ذرائع ابلاغ کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران مقبوضہ جموںوکشمیر کی سابق وزیر اعلی نے کہاکہ پہلے لوگوں کو سانس لینے کا حق دو باقی چیزیں بعد میں ہونگی۔ انہوں نے 24جون کو نئی دہلی میں بھارتی وزیر اعظم کے ساتھ جموںوکشمیر کے 14 سیاسی رہنمائوں کی ملاقات کو کشمیری عوام کو درپیش مشکلات کوختم کرنے کیلئے آگے بڑھنے کا راستہ قراردیا۔ محبوبہ مفتی نے جو وفد کا حصہ تھیں، واضح کیا کہ بات چیت کے عمل کو بااعتباربنانے کی ذمہ داری بھارتی حکومت پر ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو اعتماد سازی کے اقدامات کرنے چاہیے اورلوگوں کو سانس لینے کی اجازت دینی چاہیے اور ان کے روزگار اور زمینوں کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ جب میں کہتی ہوں کہ لوگوں کو سانس لینے کی اجازت دینی چاہیے تو میرا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آج کسی بھی شخص کو اختلاف رائے کرنے پر جیل بھیجا جاسکتا ہے۔ حال ہی میں ایک شخص کو اپنے جذبات کا اظہار کرنے پر جیل میں ڈالاگیاجس نے کہاتھا کہ مجھے ایک کشمیری ایڈوائزر سے بہت امید ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ متعلقہ ڈپٹی کمشنر نے عدالت کی طرف سے ضمانت دینے کے باوجود اس شخص کو کئی روز تک جیل میں رکھا۔ لہذا جب وزیر اعظم کہتے ہیں کہ وہ ”دل کی دوری ”کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو اس طرح کے مظالم کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔