
کشمیری قیدیوں کوکورونا وبا کی سنگین صورتحال کے پیش نظر فوری طور پر رہا کیا جائے قیدیوں کو جیلوں میں کرونا سے لاحق خطرہ انتہائی پریشان کن اور سنگین نوعیت کا ہے۔ غلام نبی شاہین
سری نگر() مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھارت اور مقامی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ کالے قوانین پبلک سیفٹی ایکٹ اور یو اے پی اے کے تحت جیلوں میں قید کشمیریو ں کو کورونا وبا کی سنگین صورتحال کے پیش نظر فوری طور پر رہا کریں۔ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے ترجمان ایڈووکیٹ غلام نبی شاہین نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ مہلک وبا میں تیزی سے لوگوں خاص طور پر نظر بندوں کو لاحق خطرہ انتہائی پریشان کن اور سنگین نوعیت کا ہے جسکا انتظامیہ کو ادراک کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کو سیاسی نظربندوں کے اہلخانہ کے ذریعے انکی صحت کے بارے میں پریشان کن اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ترجمان نے کہا کہ کپواڑہ جیل میں سید پورہ کے فاروق احمد وانی کی وفات انتہائی پریشان کن ہے جس نے اہلخانہ کے ذہنوں میں جیلوں میں بند اپنے پیاروں کے بارے میں شدید تشویش پیدا کردی ہے۔انہوں نے کہا کہ غیر سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اگست 2019 سے 5ہزار سے زیادہ کشمیری نوجوان پبلک سیفٹی ایکٹ اور یو اے پی اے کے تحت جیلوں میں بند ہیں ۔ ترجمان نے کہا کہ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ تمام کشمیری سیاسی نظربندوں کو انسانی بنیادوں پر رہا کرے۔