
کشمیری صحافی سجاد گل کو عدالتی حکم پر رہا کرنے کے بجائے کوٹ بھلوال جیل منتقل کر دیا گیا ضلع بانڈی پورہ کی ایک عدالت نے درخواست ضمانت منظورکرکے رہاکرنے کا حکم دیا تھا
سری نگر() کشمیری صحافی سجاد گل کو عدالتی حکم پر رہا کرنے کے بجائے پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کے تحت بانڈی پورہ سے جموں کی کوٹ بھلوال جیل منتقل کر دیا گیا ہے ۔انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون، وجے کمار نے میڈیا کو بتایا ہے کہ سجاد گل کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ سجاد گل گزشتہ دس دن سے بھارتی پولیس کی حراست میں ہیں۔ انہیں سرینگر میں ایک نوجوان کی شہادت کے بعداس کے اہلخانہ اور رشتہ داروں کی طرف سے بھارت مخالف نعروں کی ایک ویڈیو پوسٹ کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا ۔ضلع بانڈی پورہ کی ایک عدالت نے گزشتہ روز ان کی درخواست ضمانت منظورکرکے 30 ہزار کے مچلکوں پر رہاکرنے کا حکم جاری کیاتاہم قابض حکام نے انہیں رہا کرنے کے بجائے بتایاکہ سجاد گل کے خلاف اقدام قتل کی ایک اورایف آئی آر درج ہے اوروہ اب اسی کیس کے سلسلے میں گرفتارہیں۔ بھارتی پولیس کے ایک افسرنے صحافیوںکو بتایا کہ سجاد گل3 جنوری 2022 کو اس کے خلاف درج کیے گئے ایک اور مقدمے کے سلسلے میں زیر حراست ہیں۔سجاد گل کے وکیل عمیر رونگا نے بتایا کہ جب رہائی کے احکامات پولیس سٹیشن حاجن پہنچے تو اہل خانہ کو چند گھنٹے انتظار کرنے پر مجبور کیا گیا اور بتایا گیا کہ صحافی کو ایک اور ایف آئی آرکی وجہ سے رہا نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ بظاہر عدالت کے احکامات پر عملدرآمدکوروکنے کے لیے اس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کیا گیا ہے۔یاد رہے پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) قانون کے تحت کوئی بھی پولیس اہلکار کسی بھی شہری کو گھر یا باہر سے محض شک کی بنیاد پر گرفتار کر سکتا ہے اور گرفتار کیے گئے شہری کے اہل خانہ کو اطلاع نہیں دی جاتی نہ ہی اسے قانونی امداد حاصل کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔پی ایس اے کے تحت بغیر عدالتی سماعت کے کم سے کم دو سال تک کسی کو بھی بلا لحاظ عمر قید کیا جا سکتا ہے۔