وزیر ماحولیات کا “چٹا کاں” اور سستی چینی!

پنجابی زبان میں ایسی ایسی مثالیں ہیں کہ کسی کو عقل مند ثابت کرنا ہو یا بے وقوف ثابت کرنا ہو کسی کو ضدی ثابت کرنا ہو یا کسی کو نرم ثابت کرنا ہو بڑی دلچسپ مثالیں ہیں۔ جیسا کہ ساری دنیا ایک بات پر متفق ہو لیکن ایک شخص نہ مان رہا ہو تو اسے کہتے ہیں “ایدا کاں چٹا ای اے” اس کا مطلب ہے کہ یہ شخص کبھی نہیں مانے گا یعنی جیسے کوے کا رنگ نہیں بدل سکتا ایسے شخص کا قائل ہونا بھی ممکن نہیں ہے۔ یہاں یہ حوالہ اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ میرا پیارا شہر لاہور نے آلودگی کے معاملہ میں ساری دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ لاہور جو کبھی اپنی میزبانی کی وجہ سے مشہور تھا آج آلودہ فضا کی وجہ سے پہلے نمبر پر ہے۔ یہ خبریں کئی روز سے آ رہی ہیں لاہور ہائیکورٹ میں اس حوالے سے کیس بھی چل رہا ہے۔ گذشتہ روز بھی دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں لاہور پہلے نمبر پر نظر آ رہا ہے لیکن پنجاب کے وزیر ماحولیات بضد ہیں کہ یہ سموگ نہیں گرد ہے۔ چلیں مان لیں کہ گرد ہے اس کا سدباب کس کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف کے وزرا کے اسی رویے کی وجہ سے عوام میں بددلی پھیلی ہے اور پی ٹی آئی کے ناکام ہونے کی بڑی وجہ بھی وزرا کی محدود سوچ ہے۔ اب پنجاب کے وزیر ماحولیات اپنی تمام تر توانائیاں یہ ثابت کرنے میں صرف کریں گے کہ یہ گرد ہے یا سموگ، آلودگی ہے یا نہیں ہے۔ وہ ہر وقت اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہء ں گے جبکہ ان کی توجہ آلودگی کم کرنے اور ان کی توانائیاں ماحول کو بہتر بنانے پر خرچ ہونی چاہییں لیکن یہاں الٹ معاملہ ہے۔لاہور میں آلودگی کو جانچنے والے نو میں سے صرف دو مانیٹر کام کررہے ہیں۔ زندہ دلوں کا شہر اِن دنوں دنیا کا آلودہ ترین شہر بنا ہوا ہے۔ فضا میں دھوئیں کی بو ہے، شہریوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے باہر نکلیں تو آنکھوں میں بھی جلن ہوتی ہے لیکن وزیر ماحولیات نے ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ ہر دوسرے مسئلے میں پی ٹی آئی کے وزرا وقت ضائع کرتے ہیں۔ مسئلہ حل کرنے کے بجائے نیا مسئلہ پیدا کرتے ہیں، لوگوں کی توجہ تقسیم کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہتے ہیں۔ کوئی پوچھے کہ آپ اس لیے حکومت میں آئے ہیں کہ ایک نان ایشو کو ایشو بنا دیں، یا پاکستان کا دنیا کے ساتھ موازنہ شروع کر دیں۔ حکومت کی ذمہ داری مسائل حل کرنا ہے۔ یہ تجزیے اور موازنے کرنے کے لیے میڈیا موجود ہے وہ کرتا رہے گا۔ چونکہ پاکستان تحریکِ انصاف کے ذمہ داران اور فیصلہ ساز موجود مسائل کو تسلیم نہیں کرتے جب وہ مانتے ہی نہیں ہیں تو بہتری کے لیے کام کیسے کریں گے۔ تین سال تک یہی رویہ اشیا خوردونوش کے معاملے میں رہا ہے۔ آٹا، چینی، گیس، بجلی، پیٹرولیم مصنوعات، خوردنی تیل، ادویات، سبزیاں اور پھل ہر چیز مہنگی ہوتی گئی لیکن حکومت بہتر حکمت عملی تیار کرنے میں ناکام رہی۔ سٹیک ہولڈرز کو نظر انداز کیا جاتا رہا اور آج نتائج سب کے سامنے ہیں۔ ہمارے وزیر ماحولیات کو پہلے ماحول کے بارے سمجھانا چاہیے، پھر انہیں ماحول خراب کرنے والی چیزوں کے بارے سمجھایا جانا چاہیے پھر انہیں سمجھانا چاہیے کہ یہ سب چیزیں حقیقی طور پر موجود ہوتی ہیں، پھر انہیں سمجھایا جائے کہ غلطی تسلیم کر لینے سے عزت میں کمی نہیں آتی بلکہ اس انداز سے اصلاح کا پہلو سامنے آتا ہے اور اگر حکومتی سطح پر غلطی تسلیم کر لی جائے تو اصلاح کا سفر شروع ہونے سے کروڑوں لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔ ویسے تو حکومت ڈیلیور کرنے کے وقت سے گذر چکی ہے لیکن پھر بھی بہتر فیصلوں سے زیادہ نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔ بڑھتی سموگ کے نقصانات سے بچنے کے لیے بلدیاتی حکومت نے مختلف مقامات پر پانی چھڑکنے کا فیصلہ کیا ہے۔کمشنر لاہور کہتے ہیں کہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی جبکہ یورو ٹو پیٹرول کی فروخت پر پابندی لگا دی جائے گی۔ ایک ماہ کے لیے لاہور میں صرف یورو فائیو پیٹرول کی سپلائی ہو گی۔ لاہور میں بڑھتی ہوئی سموگ اور آلودگی پر قابو پانے کے لیے ستائیس نومبر سے پندرہ جنوری تک تمام سرکاری و نجی سکولز ہفتہ، اتوار اور پیر کو بند رہیں گے۔ اس دوران صوبائی دارالحکومت کے تمام نجی دفاتر بھی ہفتے میں تین روز بند رہیں گے۔ صوبائی وزیر ماحولیات کو خبر ہو کہ سموگ اصل آلودگی کی وجہ سے تعلیمی ادارے اور دفاتر ہفتے میں تین روز بند ہوں گے۔ کوشش کر کے اس دوران کوئی اور عذر تلاش کریں۔ ویسے تو لاہور سموگ کی زد میں ہے ممکن ہے کبھی یہ آلودگی کم یا ختم ہو جائے گی لیکن پاکستان تحریکِ انصاف کے وزرا کے عقل سے عاری بیانات کی وجہ سے جو “گرد” پی ٹی آئی کے چہرے پر جمی ہے اسے صاف ہونے میں دہائیاں لگیں گی۔ اس گرد کو صاف کرنا شاید سموگ ختم کرنے سے بھی زیادہ مشکل ہدف ہو گا۔
ایک خبر یہ ہے کہ کرشنگ سیزن شروع ہونے سے ملک کے مختلف شہروں میں چینی کی قیمتیں نیچے آنے لگیں۔سندھ کے بازاروں میں نئی چینی کے آنے سے قیمت تیزی سے نیچے آئی ہے۔ ایک سو پچاس روپے کلو سے زائد قیمت پر ملنے والی چینی پچانوے سے سو روپے کلو فروخت کی جا رہی ہے۔حیدرآباد میں چینی چھیانوے سے سو روپے جب کہ سکھر اور گوجرانوالہ میں چینی سو روپے کلو ہوگئی ہے۔ لاہور کی ہول سیل مارکیٹ میں مقامی چینی پچانوے روپے کلو سے ایک سو دس روپے کلو میں دستیاب ہے۔ چینی کی قیمت کم ہونے کی یہ خبر تو بہت سے پڑھنے والوں کے لیے نئی ہو گی لیکن نوائے وقت میں سولہ نومبر کو میں نے اپنے تجزیے میں چینی کی موجودہ صورتحال اور حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے قیمتوں میں کمی کے حوالے سے لکھ دیا تھا۔ سولہ نومبر کا تجزیہ کچھ یوں تھا۔ “سرکاری حکام کے مطابق 15 نومبر کو پنجاب میں مجموعی طور پر 18شوگر ملوں نے گنے کی کرشنگ شروع کر دی ہے ان میں جنوبی پنجاب کی 11شوگر ملیں جن میں اشرف شوگرملز،حمزہ شوگر ملز، رحیم یار خان شوگر ملز، اتحاد شوگر ملز، جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز ون اور جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز ٹو، آدم شوگر ملز، لیہ شوگر ملز، تاندلیانوالہ شوگر ملز ٹو، شیخو شوگرملز، فاطمہ شوگر ملز اور انڈس شوگر ملز شامل ہیں جبکہ وسطی پنجاب کی 7 شوگر ملیں جن میں سفینہ شوگر ملز، رمضان شوگر ملز، المعیز (Al-Moiz) شوگر ملز ٹو، جے کے شوگر ملز، اور بابا فرید شوگر ملز شامل ہیں۔ وسطی پنجاب کی شوگر ملوں نے گنے کی زیادہ سے زیادہ کرشنگ کے لئے قبل از وقت کرشنگ کا آغاز کیا ہے کیونکہ اس سال پنجاب میں گنے کی فصل بھر پور ہے۔ سندھ میں کرن شوگر ملز نے بھی گنے کی کرشنگ شروع کر دی ہے جبکہ وہاں باقی شوگر ملیں ایک دو دن میں گنے کی کرشنگ شروع کر دیں گی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اوپن مارکیٹ میں گزشتہ سیزن کی چینی کی قیمتوں میں بھی کمی آئی ہے۔ جنوبی پنجاب میں ایک کلو چینی کی ایکس مل قیمت 95 وسطی پنجاب میں 97 روپے پر پہنچ گئی ہے کیونکہ شوگر ملوں نے اپنا چینی کا ان ڈکلیرڈ سٹاک مارکیٹ میں بھیجنا شروع کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں چینی کی قیمت مزید کم ہو گی۔ آئندہ 10 سے 12 دنوں میں چینی کا فی کلو ایکس مل ریٹ 85 روپے تک آجائے گا۔ مارکیٹ میں نئی چینی آنے میں چند دن لگیں گے۔ 15 نومبر کو سندھ میں بھی ایک کلو چینی کی ایکس مل قیمت 94 روپے سے 94.50روپے رہی۔ ڈہرکی شوگر مل کا ایکس مل ریٹ 94.50روپے، گھوٹکی شوگر مل کا ایکس مل ریٹ 94.25روپے، ایس جی ایم شوگر مل کا ایکس مل ریٹ 94.25روپے نور شوگر مل کا ایکس مل ریٹ 94روپے، رانی پور شوگر مل کا ایکس مل ریٹ 94.10روپے، خیر پور شوگر مل کا ایکس مل ریٹ 94.25 روپے رہا”۔اب اصل مسئلہ قیمتوں میں استحکام اور بلاتعطل فراہمی کا ہے اس سال گنے کی فصل توقع سے زیادہ اور بہت اچھی ہے۔ بہتر فیصلوں سے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔