ہمارا نظام تعلیم اور طلباء کا مستقبل!

سنا ہے کہ اگر کسی قوم کو تباہ کرنا ہو تو اول اس کا ہیلتھ سسٹم خراب کر دیا جائے اور دوم اسکا تعلیمی نظام برباد کر دیا جائے۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں یہ دونوں ہی تبائی کے دہانے لگے ہیں۔ اول تو پرائیویٹ تعلیم حاصل کرنا عام عوام کی پہنچ سے کوسوں دور ہوگیا ہے۔ شعور بیدار کرنے کے نام پہ پرائیویٹ سکولز، کالجز اور یونیورسٹیاں اچھی خاصی اجرت لیتی ہیں اور ان پہ کوئی چیک اینڈ بیلینس نہیں ہے۔ نصاب کا یہ حال ہے کہ سب نے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائی ہوئی ہے اور ”جو چل رہا ہے اسے چلنے دو” کا نصب العین اپنایا ہوا ہے۔ ابھی ماضی حال ہی میں ”ایک قوم ایک نصاب” کا نیا نعرہ بلند ہوا جس کی گونج پورے ہی پاکستان میں سنی گئی پر ابھی اس قوم کو اور ساتھ اس نصاب کو معیاری بنانے میں وقت اور انتھک محنت دونوں ہی لگیں گی۔ بہرحال یہ ایک اچھا اقدام ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ decision makers کو یہ بھی ذہن میں رکھنا چایئے کہ اس نصاب کو یا کسی بھی نصاب کو پڑھانا زیادہ توجہ طلب کام ہے۔ ہمارا نظام تعلیم بھی حکومتوں کی طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہی رہا ہے۔ 74 سال میں جہاں دنیا نے ترقی کی نئی راہیں کھوج لی ہیں وہاں ہم ابھی تک ایوانوں میں نصاب پر بحث کر رہے ہیں۔ اور اس دوران کتنے ایسے دماغ جو پاکستان کا اثاثہ بن سکتے تھے وہ یہاں سے باہر مغرب کی طرف جا رہے ہیں کیونکہ انھیں بخوبی پتہ ہے کہ وہاں ان کی قدر ہوگی نصابی اور پالیٹیکل جنگ سے بالاتر ہو کر۔ ہمارے معاشرے میں اسکولز بھی سٹیٹس سمبل بن گئے ہیں پھر چاہے اندر جو مرضی ہو رہا ہو اس سے کسی کو کوئی غرض نہیں ہے۔ بچوں پہ اس قدر بوجھ ڈال دیا گیا ہے کہ یونیورسٹیوں سے نکلتے نکلتے آدھے طلبہ تو ڈیپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں اور رہی سہی کثر تب نکل جاتی ہے جب جابز نہیں ملتیں۔ گورنمنٹ کالجز اور یونیورسٹیوں کا تو حال ہی بے حال ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہاں سے باہر جانے والے طالبعلم وہاں نمایاں کارکردگی دکھاتے ہیں اور پاکستان کا نام روشن کرتے ہیں پر یہ بھی نہ بھولیں کہ وہ انٹلیکچولز ہیں۔ ہمارے تعلیمی اداروں کا اس میں کوئی کمال نہیں ہے۔ HEC یہ غور کرے کہ یہاں پر یونیورسٹیاں میجرز آفر کرتے ہوئے طالبعلم کو بتاتی ہیں کہ ان کے پاس وسائل محدود ہیں اور پانچ چھ چوائسز صرف دکھاوے کے طور پر رکھی ہوتی ہیں؟ کیا HEC اس پر کوئی ایکشن لیتی ہے؟ یا ہم اس بات پہ ہی خوش ہو جائیں کہ ہماری یونیورسٹیاں دنیا کی رینکنگ میں 500 میں آگئی ہیں؟؟ ایک بچہ جس نے اپنا ایک پلان بنایا ہوتا ہے، اور وہ اتنی فیس بھی دیتا ہے تب بھی وہ اگر اپنا میجر خود نہیں منتخب کر سکتا تو پھر وہ کیا کرے گا؟ آپ اس کے پاس کوئی چوائس نہیں چھوڑ رہے اس کے لئے تعلیم بس ڈگری ہی ہے۔ جو تعلیمی ادارے اس طرح بچوں کے مستقبل سے کھیلتے ہیں ان اداروں کی کیا عزت کرنی کسی نے؟؟ کیا یہ سب باتیں ایڈمشن کے دوران بتانے والی نہیں ہونی چاہیں تاکہ بچہ اپنے لیے بہتر فیصلہ کر سکے؟؟ HEC یونیورسٹیوں کے نصاب کی طرف بھی نظر کرم کر لے۔ جو کورس جو بکس آج سے دس سال پہلے پرھائی جا رہی تھیں وہی نصاب ابھی بھی پڑھایا جا رہا ہے۔ ویسے تو ہم بخوبی آگاہ ہیں کہ نظام آہستہ آہستہ بدلتا ہے پر یہاں تو یہ رینگ رہا ہے۔ سالانہ انسپیکشن بھی بس چائے بسکٹ اور بند لفافوں تک ہی رہ گئی ہے۔ میڈیکل کالجز کا تو شاید کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ بارہ بارہ لاکھ سالانہ دینے کے باوجود وسائل کی کمی کا رونا رونے والے میڈیکل کالجز کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ یہی حال تمام تعلیمی اداروں کا ہے۔ طلبہ پہ بار بار بوجھ ڈالا جاتا ہے، انھیں ہر طرح پرکھا جاتا ہے پر نصاب کو کون پرکھے گا؟ اساتذہ کو پرکھنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟ افسران بالا ذرا اس طرف توجہ فرما لیں ورنہ حالات تو پہلے ہی ڈگمگوں تھے کوڈ کے بعد سے اور آن لائن کلاسز کے اجرا سے تو بدتر ہورہے ہیں۔ جہاں چوتھی جماعت کے بچے کو مادر ملت کا پتہ نہیں ، نویں دسویں کے طلبہ بیسک الجبرا سے دور ہیں، جہاں میڈیکل کے سٹودنٹ کو ہائی اور لو بلڈ پریشر کے فرق کا نہیں پتہ، جہاں ماس کام کے سٹوڈنٹ کو نویم چامسکی کا نہیں پتہ تو۔۔۔۔ کہیں تو کچھ گڑبڑ ہے ناں؟ پھر چاہے وہ نصاب ہے یا ہمارا تعلیمی معیار، یہ دیکھنا کہ مسئلہ کہاں ہے یہ تو افسران بالا کا کام ہے۔