
ماورائے عدالت قتل دو شہریوں کی قبرکشائی، لاشیں رات کے اندھیرے میں سپردخاک دونوں شہدا کے خاندانوں کو ان کی نماز جنازہ میں صرف چند لوگوں کو ہی شرکت کی اجازت
سری نگر() سری نگر میں ماورائے عدالت قتل کیے جانے والے دو کشمیریوں محمد الطاف بٹ اور ڈاکٹر مدثر گل کو سری نگر میں دوبارہ سپردخاک کر دیا گیا ۔جموں و کشمیر میں بڑھتے ہوئے سیاسی اور سماجی دبائو کے پیش نظربھارتی قابض حکام نے جمعرات کی شام کو بھارتی فوج کے ہاتھوں حیدرپورہ سرینگر میں جعلی مقابلے کے دوران شہید ہونیوالے چار کشمیری شہریوں میں سے دو محمد الطاف بٹ اور ڈاکٹر مدثر گل کی ضلع کپواڑہ کے علاقے ہندواڑہ میں واقع قبرستان میں قبرکشائی کی۔ لاشوں کو سرینگر میں رات ایک بجے لواحقین کے حوالے کیا گیا اس موقع پر پورے علاقے کو بھارتی فوج نے سیل کر دیا تھا ۔محمد الطاف بٹ اور ڈاکٹر مدثر گل کو بھارتی فو ج نے پیر کے روزمحمد الطاف اور ڈاکٹر مدثر کو سرینگر کے علاقے حیدر پورہ میں ایک جعلی مقابلے میں شہید کرنے کے بعد دو اور شہریوں کی میتوں کے ہمراہ ہندواڑہ کے قبرستان میں دفن کر دیاتھا۔ لاشوں کو ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کی موجودگی میں تحصیلدار ہندواڑہ کی نگرانی میں نکالا گیا۔ لواحقین سے کہا گیا تھا کہ لاشوںکو صبح ہونے سے قبل دفنایا جائے دونوں شہدا کے خاندانوں کو ان کی نماز جنازہ میں صرف چند لوگوں کو ہی شرکت کی اجازت دی گئی ۔ عوامی دباو پرجموں وکشمیر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے حیدر پورہ انکاونٹر کی تحقیقات کیلئے مجسٹریل انکوائری کے احکامات صادر کیے تھے ۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر خورشید شاہ کو اس سلسلے میں تحقیقاتی آفیسر مقرر کیا گیا ہے اور 15روز کے اندرا ندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے