جموں وکشمیر میں 6 نومبر کو یوم شہدائے جموں عقیدت واحترام سے منایا جائے گا یوم شہدائے جموں کے موقع پر خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا جائے۔ عبدالصمد انقلابی

سری نگر() اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے چیئرمین پیر عبدالصمد انقلابی نے 6 نومبر کو یوم شہدائے جموں عقیدت واحترام سے منانے کا اعلان کیا ہے انہوں نے کشمیریوں سے اپیل کی ہے کہ 6 نومبر کو یوم شہدائے جموں کے موقع پر خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا جائے ۔ ایک  بیان  میں عبدالصمد انقلابی نے نے کہا ہے کہ جمع المبارک کے دن نماز جمعہ کے موقع پر آر پار جموں کشمیر کے تمام عبادت گاہوں میں شہدا جموں کو یاد کیا جائے گا۔ چیئرمین نے شہدا جموں کو بہترین الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 6 نومبر 1947 کے دن جموں کشمیر کے لوگوں خصوصا مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔  دریائے توی جموں کے کنارے مسلمانوں کے اعضا بکھرے پڑے تھے۔  انسپکٹر راجہ صحبت علی کی لعش سے سونے کی انگوٹھیاں ان کی انگلیاں کاٹ کر اتار لیں، سانحہ جموں کے ان واقعات میں مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا گیا۔  خواتین کی عصمت دری کی گئی، ہر طرف خون کا دریا بہہ رہا تھا۔ 6 نومبر کا دن جب بھی آتا ہے تو وہ منظر سامنے آکر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ سانحہ جموں کا واقعہ اسلامی تحریک آزادی کشمیر کا گیٹ وے ہے اس واقعہ کو سامنے رکھتے ہوئے لوگوں کو اسلامی تحریک آزادی جموں کشمیر کو اسی تناظر میں اجاگر کرنے کے لئے ایک متفقہ لائحہ عمل آزادی برائے اسلام کو اختیار کرنا چاہئے اور اتحاد و یکجہتی اور دین اسلام کی فضا کو فروغ دینا چاہئے۔ چیئرمین نے کہا ہے کہ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، علمبرداروں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور عالمی طاقتوں کو مسئلہ جموں کشمیر کی اصل صورتِ حال سے آگاہ کرنا چاہئے۔ چیئرمین نے کہا ہے کہ آج بھی جموں کشمیر میں بھارت کے دس 10 لاکھ سے زائد بھارتی فوج ظلم کا پہاڑ توڑ رہی ہے، اسلامی تحریک آزادی جموں کشمیرکو دبانے کے لئے اب بھارتی حکومت اور سکورٹی فورسز  نے پیلٹ گنوں کا بھی استعمال کر کے جموں کشمیر کے لوگوں اور نوجوانوں کو آنکھوں کی بصارت سے بھی محروم کرنے کی مہم شروع کر رکھی ہے تاکہ دوسرے لوگوں اور نوجوانوں کے لئے نشان عبرت بن سکیں۔ چیئرمین نے کہا ہے کہ 6 نومبر 1947 کے دلخراش واقعہ کی طرح بھارت جموں کشمیر میں انسانیت سوز مظالم ڈھا کر اسلامی تحریک آزادی جموں کشمیرکا رخ موڑنے کی مذموم کارروائیاں کر رہا ہے، جس نے گزشتہ 75 برسوں سے اسلامی تحریک آزادی کشمیرکا راستہ روکنے کا ہر حربہ استعمال کر کے دیکھ لیا، لیکن اسے اپنے مقاصد میں بری طرح ناکامی و نامراد ہوئی ہے۔ چیئرمین نے کہا ہے کہ ضرورت اس امرکی ہے کہ جموں کشمیر کے لوگوں کااپنا پیدائشی حق حق خودارادیت دلانے کے لئے بھارتی حکومت اور سکورٹی فورسز کی طرف سے نہتے جموں کشمیر کے لوگوں پر ڈھائے جانے والے ظالم و جبر کو بے نقاب کیا جائے۔  اِس سلسلے میں بیرون ممالک سفارت کاری میں مسئلہ جموں کشمیر کو ترجیح دی جائے، یورپ، امریکہ ، برطانیہ کے ایوانوں سمیت اسلامی ممالک میں مسئلہ جموں کشمیر کے سلسلے میں بھرپور لابنگ کی جائے،جبکہ بھارت کی طرف سے جموں کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم کو سوشل میڈیا،ای میل، ٹویٹر، فیس بک، واٹس اپ سمیت دیگر الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے ذرائع سے دنیا کو آگاہ کیا جائے تاکہ گزشتہ 75 برسوں سے حق خودارادیت کے حصول میں لاکھوں کے حساب سے جانوں کی قربانی دینے والے جموں کشمیر کے لوگوں کااپنا پیدائشی حق حق خودارادیت مل سکے گا۔ چیئرمین نے اقوام عالم میں رہنے والے جموں کشمیر کے تمام لوگوں سے درد مندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ 6 نومبر 2021 کے دن شہدا جموں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے مختلف مجلسوں اور تقاریب کا اہتمام کریں اور بھارت کے سفارت خانوں کے سامنے اپنا احتجاج بھی درج کریں