
تین کشمیری طلبہ کی گرفتاری کے خلاف سرینگر میں احتجاجی ریلی کشمیر میںکسی کو حق کی آواز بلند کرنے کی اجازت نہیں۔شمیمہ فردوس
سری نگر() مقبوضہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی خواتین شاخ نے ٹی ٹونٹی عالمی کپ میں بھارت کے خلاف پاکستان کی جیت کا جشن منانے پر تین کشمیری طلبہ کی گرفتاری اور دیگر کے خلاف مقدمات کے اندراج کے خلاف سرینگر میں احتجاجی ریلی نکالی گئی۔نیشنل کانفرنس خواتین ونگ سے وابستہ کارکنوں کواس وقت پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس کے گیٹ سے باہر جانے سے روکا جب وہ آگرہ میں کشمیری طلبا کی گرفتاری اور ہراساں کرنے کیخلاف احتجاجی ریلی شروع کی ۔ صدر شمیمہ فردوس کی قیادت میں خواتین کارکنوںنے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر آگرہ میں گرفتار طلبا کو انصاف دو اور طلبا کو فوری طور رہا کرنے کے نعرے درج تھے۔کارکنوں کو نوائے صبح کمپلیکس سے باہر نکلنے کی پولیس نے اجازت نہیں دی اورانہیں کمپلیکس کے احاطے تک ہی محدود رکھا۔اس موقعہ پرشمیمہ فردوس نے کہا کہ یہاں نہ اظہارِ رائے کی آزادی ہے اور نہ ہی پرامن احتجاج کرنے کے جمہوری حقوق ۔کسی کو حق کی آواز بلند کرنے کی اجازت نہیں ،حکمرانوں نے اپوزیشن کی آواز دبانے کیلئے تمام سرکاری مشینری کام پر لگا دی ہے۔ شمیمہ فردوس نے کہا کہ آگرہ میں کشمیری طلبا کو بھاجپا ورکروں کے کہنے پر گرفتار کیا گیا جبکہ کالج منتظمین نے ان پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ان طلبا کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتی ہے اور حکمرانوں کو متنبہ کرتی ہے کہ کشمیریوں کیخلاف انتقام گیری کے ایسے اقدامات کا سلسلہ فوری طور پر روکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انتقام گیری پر مبنی ان اقدامات سے کشمیریوں اور ملک کے درمیاں دوریوں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک جمہوری ملک میں اس قسم کے اقدامات کی کوئی جگہ نہیں ہے، یہ اقدامات غنڈہ گردی پر مبنی ہیں اور ایسے اقدامات دنیا بھر میں ملک کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔