جنوبی کشمیر کے تین اضلاع میں524 کنال اراضی بھارتی فوج کو الاٹ کرنے کا منصوبہ اننت ناگ، شوپیاں اور پلوامہ کے شہریوں کو بھارتی فوج کو زمین الاٹ کرنے کے خلاف احتجاج

سری نگر() جنوبی کشمیر کے تین اضلاع میں524 کنال اراضی بھارتی فوج کو الاٹ کرنے کے منصوبے کے خلاف شہریوں نے احتجاج کیا ہے  ۔ بھارتی حکومت کی طرف سیزبردستی زمینیں چھیننے کے خلاف کاکپورہ پلوامہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ سینٹرل ریزرو پولیس فورس سی آر پی ایف  کے لیے تین اضلاع اننت ناگ، شوپیاں اور پلوامہ میں 524 کنال اور 11 مرلہ اراضی  کی نشاندھی  کی گئی ہے   لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی زیر قیادت ریاستی انتظامی کونسل نے سی آر پی ایف کو اراضی کی منتقلی کی منظوری دی ہے۔ شوپیاں کے 5 ، پلوامہ کے 3  اور ضلع اننت ناگ کے 3 دیہات میں پھیلی زمین کی نشاندہی کی گئی ہے۔سی آر پی ایف کو منتقل کی جانے والی زمین ‘سرکاری زمین’ ہے، جس میں ۔شوپیان کے الوپورہ اور شیخ پورہ دیہات میں 150 کنال اراضی سی آر پی ایف کو دی جارہی ہے اسکے علاوہ، بٹہ پورہ میں 20 کنال اور زاوورہ اور بدرھامہ گائوں میں 22.8 کنال اراضی منتقل کرنی ہے۔ پلوامہ ضلع میں کدلہ بل پانپور میں 24.16 کنال ،کاکا پورہ کے اوکھو گائوں میں 80 کنال اور قوئل گائوں میں 60 کنال اراضی منتقل کی جانی ہے۔اننت ناگ میں شانگس تحصیل کے براہ گائوں میں 99.8 کنال اراضی، جمو پہلگام میں 40 کنال اور سبحان پہری بجبہاڑہ میں 27 کنال اراضی منتقل کی جانی ہے۔اراضی کی منتقلی کی قیمت اسٹامپ ڈیوٹی کی شرح کے مطابق ادا کی جائے گی اور مزید زمین اسی مقصد کے لیے استعمال کی جائے گی جس کے لیے منتقلی کی منظوری دی گئی ہے۔دریں اثنا کاکا پورہ کے اوکھو گائوں کے مقامی لوگوں نے احتجاج کیا  ہے کہ اگر ان سے زمین چھینی گئی تو وہ آنے والے دنوں میں احتجاج میں شدت پیدا کریں گے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ برسوں سے یہاں رہ رہے ہیں اور اب اچانک اسے سرکاری اراضی قرار دے دیا گیا ہے۔”اگر زیر بحث زمین ان سے چھین لی جاتی ہے، تو وہ سڑکوں پر آ جائیں گے کیونکہ ان کے پاس رہنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ مقامی آبادی کہاں جائے گی۔ ہم اصل باشندے ہیں اور مکینوں کو خالی کرنا اور CRPF کے لیے بٹالین کیمپنگ سائٹس قائم کرنا سراسر ناانصافی ہے۔