فلسطینیوں کی طرح کشمیریوں کو بھی زمین اور جائیدار سے بے دخل کرنے کی مہم شروع گوجر بکروال مسلمان کمیونٹی کے سات سو خاندانوں کو پندرہ روز کے اندر گھر خالی کرنے کا حکم

سری نگر() بھارت نے فلسطینیوں کی طرح کشمیریوں کو بھی زمین اور جائیدار سے بے دخل کرنے کی مہم شروع کر دی ہے ۔ اس مہم کے تحت جنوبی کشمیر میں کئی دھاہیوں سے مقیم گوجر بکروال مسلمان کمیونٹی کے کم از کم سات سو خاندانوں کو پندرہ روز کے اندر اندر گھر خالی کر کے یہا ں سے چلے جانے کا حکم دیا گیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے  پر5 اگست2019 کے بعد بھارتی حکومت نے  جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں میں گوجر بکروال مسلمان کمیونٹی کے زیر استعمال 15ہزار ہیکٹر اراضی خالی کرانے کی  مہم شروع کی تھی ۔جنوبی ضلع اننت ناگ کے علاقے پہلگام میں جاری اس مہم میں سینکڑوں گجر اور بکروال خاندانوں کے گھر مسمار کر دیے گئے تھے ۔یہ عارضی گھر اب ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ اب بھارتی حکومت نے کشمیریوں کو زمین اور جائیدار سے بے دخل کرنے کی اپنی مذموم مہم کو آگے بڑھائے ہوئے ضلع اسلام آباد کے علاقے راک برہ میں گوجر بکروال برادری کے کم از کم سات سو خاندانوں کو پندرہ روز کے اندر اندر گھر خالی کر کے یہا ں سے چلے جانے کا حکم دیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر  کے محکمہ مال نے گو جر بکروال مسلمان کمیونٹی کو گھر خالی  کر کے  جانے کا حکم دیا ہے ۔ راک برہ کے علاقے میں قریبا سات سو گجر خاندان گزشتہ ایک صدی سے رہائش پذیر ہیں۔ گجر برادری کے ایک فرد خالد چوہدری نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ زمین خالی کرنے کے محکمہ ریونیو کے نوٹس نے انہیں حیران کردیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ 75 برس سے اس علاقے میں رہ رہے ہیں۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں پوچھا کہ حکام ہمارے ساتھ یہ کیسے کر سکتے ہیں ۔گجر بکرالو ں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے پہلگام سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن چوہدری ارشاد کھٹانہ نے بتایا کہ محکمہ ریونیو کی جانب سے ایک نوٹس جاری کیا گیا ہے جس میں ان خاندانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ 15 دن کے اندر اپنے گھر خالی کردیں جسکی وجہ سے وہ سخت پریشان ہیں۔