
علی گیلانی کی جبری تدفین پربڑھتی ہوئی تنقیدکے بعد کشمیر پولیس سے تدفین کی رپورٹ طلب جنیوا میں انسانی حقوق تنظیم نے علی گیلانی کی تدفین کا معاملہ بھارت کے سامنے اٹھایا تھادی ہندو
نئی دہلی ،سری نگر() بھارتی حکومت نے عالمی انسانی حقوق کے اداروں کے دباوء پر کشمیری رہنماسید علی شاہ گیلانی کی تدفین کے بارے میں مقبوضہ کشمیر پولیس سے رپورٹ طلب کی ہے ۔سید علی گیلانی کی میت چھیننے اور رات کے اندھیرے میں جبری تدفین پربڑھتی ہوئی تنقیدکے بعد بھارتی وزارت خارجہ نے اس سلسلے میں پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔روزنامہ دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق بھارتی پولیس یکم ستمبر کو سید علی گیلانی کے انتقال کے بعد پیش آنے والے واقعات کی ترتیب واررپورٹ تیار کر رہی ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے سابق حریت چیئرمین کی تدفین سے متعلق پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔92 سالہ کشمیری رہنما طویل علالت کے بعد یکم ستمبر کو سرینگر کے علاقے حیدر پورہ میں اپنے گھر میں نظربندی کے دوران انتقال کرگئے تھے۔ انہیں فوجی محاصرے میں حیدر پورہ میں مسجد کے قریب قبرستان میں دفن کیا گیا۔دی ہندو نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سید علی گیلانی کے اہلخانہ کی طرف سے زبردستی تدفین کے الزامات کے پیش نظر پولیس نے تدفین اورغسل کی کئی ویڈیوز جاری کیںلیکن ان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیںکی جا سکتی کیونکہ پولیس نے اس رات صحافیوں کو تدفین کی کوریج کرنے سے روکاتھا۔ دی ہندو نے انکشاف کیاہے کہ جنیوا میں قائم انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے سید علی گیلانی کی تدفین کا معاملہ بھارتی حکومت کے ساتھ اٹھایا ہے۔ ایک انٹرویو میں علی گیلانی کے دونوں بیٹوں نے بتایا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے ان کے والد کی لاش چھین لی تھی ۔ علی گیلانی کے بیٹوں نعیم گیلانی اور نسیم گیلانی نے بتایا تھا کہ انتظامیہ نے تدفین کے حوالے سے سب کچھ سنبھال لیا تھا۔وہ پہلے ہی قبر کھود چکے تھے ، ایک تابوت ، اور کفن لے کر آئے تھے ۔ دی ہندو کے مطابق پولیس نے کئی سال پہلے علی گیلانی کے لیے ایک ‘جی پلان’ تیار کیا تھا ، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ علی گیلانی کی وفات کے بعد ان کی نماز جنازہ امن و امان کی صورتحال کنٹرول میں رہے ۔ پولیس نے قبرستان تک "سیکورٹی کوریڈور” بھی بنایا تھا۔ دوستمبر کی صبح کسی صحافی کو تدفین کی کوریج کی اجازت نہیں تھی