
2021 میں مقبوضہ کشمیر کے 22 سرکاری ملازمین کو برطرف کیا گیا صلاح الدین کے دو بیٹے سید احمد شکیل اور شاہد یوسف بھی شامل ہیں
سری نگر() متحدہ جہاد کونسل کے چیرمین سید صلاح الدین کے دو بیٹوں سید احمد شکیل اور شاہد یوسف سمیت کل 22 سرکاری ملازمین کو2021 میں برطرف کیا گیا ہے ۔برطرف ہونے والوں میں پروفیسر، تحصیلدار، محکمہ جنگلات کے افسر شامل ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھارتی آئین کی دفعہ311 کے تحت مزید چھ سرکاری ملازمین کی برطرفی کا حکم نامہ جاری کر دیا ہے ۔ برطرف ملازمین میں دو اساتذہ ، دو پولیس کانسٹیبل ، محکمہ جنگلات کا ایک اعلی افسر اور محکمہ روڈز اینڈ بلڈنگز کا ایک ملازم شامل ہے۔ نکالے گئے ملازمین میں سے دو کا تعلق ضلع کشتواڑ اور ایک ایک کا تعلق بڈگام ، اسلام آباد ، بارہمولہ اور پونچھ اضلاع سے ہے۔برطرف ملازمین میں عبدالحمید وانی (استاد) ، لیاقت علی ککرو(استاد) ، جعفر حسین بٹ(کانسٹیبل) ، شوکت احمد خان (کانسٹیبل) ، محمد رفیع بٹ(روڈ زاینڈ بلڈنگز ڈیپارٹمنٹ میں جونیئر اسسٹنٹ) اور طارق محمود کوہلی (محکمہ جنگلات میں رینج آفیسر)شامل ہیں۔قابض حکام نے یہ حکم مقبوضہ جموں وکشمیر میں سرکاری ملازمین کی تحریک آزادی سے وابستگی کی جانچ پڑتال کرنے والی کمیٹی کی طرف سے مذکورہ ملازمین کی برطرفی کی سفارش کے بعد جاری کیا۔اس سے پہلے رواں سال کے اوائل میں حکام نے کم از کم گیارہ سرکاری ملازمین کو انہی الزامات پر برطرف کیا تھا۔ یاد رہے بھارتی آئین کی دفعہ311 کے تحت برطرف کیے جانے والے ملازمین بارے کوئی تحقیقات نہیں ہوتی اور برطرف ملازم صرف ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔یہ شق حکومت کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ بغیر تفتیش کے ملازمین کو برطرف کر دے ۔ مقبوضہ کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر اگر سمجھیں کے بھارتی سلامتی کے لیے برطرفی ضروری ہے تو کسی کو بھی طربرف کیا جاسکتا ہے ،حالیہ مہینوں میں برطرفی کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔ 2 مئی 2021کو سرکار نے3سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کردیا تھا جن میں کرالہ پورہ کپوارہ سے تعلق رکھنے والے استادادریس جان،پلوامہ میں تعینات نائب تحصیلدار نذیر احمد وانی اور گورنمنٹ کالج ادھمپور کے شعبہ جغرافیہ کے اسسٹنٹ پروفسر ڈاکٹر عبدالباری نائک شامل تھے۔10جولائی کو بھی حکومت نے اسی جرم میں11ملازمین کو برطرف کیا تھا۔ان میں حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کے2بیٹے سید احمد شکیل اور شاہد یوسف کے علاوہ کانسٹیبل عبدالرشید شگن، محکمہ صحت کے ملازم ناز محمد الائی، محکمہ بجلی کے انسپکٹر شاہین احمد لون بھی شامل تھے۔۔