
مقبوضہ جموں و کشمیر: رپورٹر کیلئے برکنگ نیوز چلانا”تلوار کی دھار “ پر چلنے کے مترادف
سرینگر07جولائی() بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں صحافیوں کا کہنا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں ایک رپورٹر کوئی خبر بریک کرنے سے پہلے درجن بار حقائق کی جانچ کرنے پر مجبور ہوتا ہے اور اگر” بریکنگ نیوز “بھارتی فورسز سے متعلق ہو تو یہ ان کے لئے ایک انتہائی مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے جنوبی کشمیر کو کور کرنے والے شوپیاں کے رہائشی عمر راشد کا کہنا تھا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں اور پولیس سے معلومات کا حصول اور انکے بارے خبریں بریک کرنا ایک آسان کام تھا لیکن جب سے میڈیا سے متعلق نئے حکمناموں کا اجرا ہوا ہے ایک رپورٹر کسی بھی خبر کو شائع یا نشر کرنے سے قبل درجن مرتبہ اسکے حقائق کی جانچ پڑتال کرنے پر مجبور ہے ۔ عمر راشد کا کہنا ہے ایک متنازعہ خطے میں کسی بریکنک نیوز کو چلانا تلوار کی دہار پر چلنے کے متراف ہے کیونکہ کوئی بھی پارٹی خبر کی کہانی کے تناظر میں معمولی غلطی یا غلط فہمی پر رپورٹر کے خلاف مقدمہ چلا سکتی ہے۔عمر راشدنے جو اس وقت سرینگر میں قائم خبررساں ادارے گلوبل نیوز سروس (جی این ایس) کے لئے کام کر رہے ہیں جنوبی کشمیر کے ان چند صحافیوں میں شامل ہیں جو تشدد کے حوالے سے خبروں کی کوریج کرتے ہیں کہا کہ انہیں دھونس، دھمکیوں کا مسلسل سامنا ہے لیکن یہ سب انکے پیشہ ورانہ فرائض کی راہ میں کبھی بھی رکاوٹ نہیں بنا اور وہ لوگوں کو بروقت معلومات کی فراہمی کیلئے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔