
مقبوضہ جموں و کشمیر : قابض انتظامیہ پچاس ہزار نوجوانوں کو روزگار دینے کے وعدے سے مکر گئی
سری نگر 18 جون ( ) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں قابض بھارتی انتظامیہ کا پچاس ہزار ناخواندہ نوجوانوںکو روزگار فراہم کرنے کا وعدہ ابھی تک پورا نہیں ہواہے۔ نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت نے 5اگست 2019کو مقبوضہ جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد کشمیری نوجوانوں کو لبھانے کیلئے انہیں روزگار فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ 5اگست 2019کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے فوراً بعد مقبوضہ جموں و کشمیر کے اس وقت کے گورنر ستیہ پال ملک نے اعلان کیا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں قائم بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کشمیر کے پچاس ناخواندہ نوجوانوں کو ملازمت فراہم کرے گی لیکن اب مقبوضہ علاقے کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ستیہ پال نے پچاس ہزار کو نہیں صرف پچیس ہزار نوجوانوں کو روز دینے کی بات کی تھی۔ اس حوالے سے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے دفتر سے جاری ایک ہینڈ آﺅٹ میں بتایا گیا ہے کہ اب تک مختلف محکموں میں اٹھارہ ہزار اسامیوں کو پرُ کرنے کیلئے اشتہار دیا گیا ہے۔