مقبوضہ جموںو کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور مسلسل فوجی محاصرے کے 600دن مکمل ہونے کے موقع پرمظفر آباد میں احتجاجی مظاہرہ اورریلی

مظفرآباد26 مارچ : بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بھارت کے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدام اور مقبوضہ علاقے کے مسلسل فوجی محاصرے کو600 دن مکمل ہونے کے موقع پر مظفرآباد میں پاسبان حریت جموںو کشمیر کے زیر اہتمام بھارت مخالف احتجاجی مظاہرہ کیا گیااورریلی نکالی گئی۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مظاہرے کے شرکانے بھارتی فوجی قبضے کیخلاف شدید نعرے بازی کی ۔مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر جموںوکشمیر کی تقسیم کیخلاف اور کشمیریوںکے حق خودارادیت کے حق میں مطالبات درج تھے۔ پاسبان حریت جموںو کشمیر کے چیئرمین عزیراحمدغزالی نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت کے یکطرفہ غیر قانونی اقدامات کو600دن مکمل ہوگئے ہیںجب بھارت نے عالمی قوانین اور ضابطوں کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے جموںو کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر کے اسے دو حصوں میں تقسیم کردیاتھا اور کشمیری عوام کی تمام سیاسی، مذہبی اور سماجی آزادیوں کو ختم کردیاتھا۔انہوںنے کہاکہ بھارت نے مسلسل فوجی محاصرے کے ذریعے لاکھوں کشمیریوںکو اپنے گھروں میں قید،سینکڑوں نوجوانوں کو شہید اورسینکڑوں رہائشی مکانات پر کیمیکل چھڑک کر آگ لگا دی۔ عزیر احمدغزالی نے کہاکہ کشمیری عوام بھارتی فوجی قبضے کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ ریلی سے انٹرنیشنل فورم فار جسٹس کے وائس چیئرمین مشتاق الاسلام کے علاوہ خالد محمود زیدی ،جاوید احمد مغل، مہتاب حمید ایڈووکیٹ، سید سلطان پیرزادہ، فیضان پاسٹر اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ انہوںنے کہا کہ کشمیری عوام بھارت کے جبری فوجی قبضے سے آزادی چاہتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ مقبوضہ جموںوکشمیرمیں بڑے پیمانے پر جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کیخلاف عالمی برادری کو آواز اٹھانی چاہیے ۔مظاہرین نے شہید برہان وانی چوک سے ساتھرا موڑ تک مارچ کیا اورآزادی، شہدائے کشمیر اور کشمیری عوام کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کئے ۔