سرینگر مظاہرین پر طاقت کا وحشیانہ استعمال ، متعدد زخمی

سرینگر 05 مارچ  : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں بھارتی پولیس نے سرینگر میں مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ۔
 کشمیر میڈیاسروس کے مطابق کشمیری نوجوانوں نے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کے باہر نماز جمعہ کے بعد آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف مظاہرہ کیا ۔ مظاہرین نے ” ہم آزادی چاہتے ہیں، جیوے جیوے پاکستان اور پاکستان زندہ باد“ کے فلک شگاف نعرے لگائے۔مظاہرین نے حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کی تصویروں والے پوسٹر اٹھا رکھے تھے جنہیں قابض بھارتی انتظامیہ نے قریباً بیس ماہ گھر میں غیر قانونی طورپر نظر بند رکھنے کے بعد گزشتہ روز رہا کیا تھا ۔ میرواعظ کوآج جامع مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرنا تھا تاہم انتظامیہ نے رات کو انہیں پھر گھر میں نظر بند کر دیا۔ بھارتی پولیس نے مظاہرین کو منشتر کرنے کیلئے آنسو گیس کے گولے داغے جس کی وجہ سے ایک صحافی سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ آخری اطلاعات تک مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں جاری تھیں۔
دریں اثنا نامعلوم افرا نے کپواڑہ قصبے میں بس اسٹینڈ کے نزدیک بھارتی پیرا ملٹری اہلکاروں پر دستی بم داغ دیا جو پھٹا نہیں۔ واقعے کے فوراً بعد بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے علاقے کو محاصرے میں لیکر حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی۔