دنیا کو کورونا وائرس سے خبردار کرنے والے ڈاکٹر انتقال کرگئے

چین میں کورونا وائرس کی سب سے پہلے پیشگوئی کرنے والے ڈاکٹر لِی وینلیانگ اسی بیماری کے باعث دوران علاج چین کے مقامی ہسپتال میں انتقال کرگئے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق لِی وینلیانگ نے سب سے پہلے اپنے ساتھی ڈاکٹروں کو اس بیماری سے آگاہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

\

ڈاکٹر لِی وینلیانگ نے گزشتہ سال اپنے ساتھیوں کو کورونا وائرس کے حوالے سے بتایا تھا، جس کے بعد چین کی پولیس نے انہیں تنبیہ بھی کی تھی۔

وہ کئی روز سے چین کے مقامی ہسپتال میں زیر علاج تھے، تاہم اب ہسپتال نے ان کی موت کی تصدیق بھی کردی۔

چین کی کچھ ویب سائٹس نے انہیں ‘ہیرو’ بھی قرار دیا جبکہ کچھ نے انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے نظمیں شیئر کیں۔

 

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے بھی ایک ٹوئٹ کے ذریعے ڈاکٹر لِی وینلیانگ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔

ہسپتال انتظامیہ کے مطابق 34 سالہ ڈاکٹر لی وینلیانگ کا انتقال جمعرات کی رات 3 بجے کے قریب ہوا۔

چین کے شہر ووہان کی حکومت نے بھی ان کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا۔

 

خیال رہے کہ دسمبر کے آخر میں سامنے آنے والے وائرس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 630 سے تجاوز کرگئی ہے اور 3 ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آئے۔

چین سمیت 25 ممالک میں 30 ہزار سے زائد افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے تاہم چین سے باہر صرف فلپائن میں ایک ہلاکت ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ چین میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے دن رات کام کرنے والے 28 سالہ ڈاکٹر بھی اچانک انتقال کرگئے تھے۔

سونگ ینگ جی 10 دن سے دن رات مریضوں کے علاج میں مصروف تھے اور پیر 3 فروری کو اچانک وہ اپنے کمرے میں گر کر مرگئے تھے۔

کورونا وائرس ہے کیا؟

کورونا وائرس ایک عام وائرل ہونے والا وائرس ہے جو عام طور پر ایسے جانوروں کو متاثر کرتا ہے جو بچوں کو دودھ پلاتے ہیں تاہم یہ وائرس سمندری مخلوق سمیت انسانوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔

اس وائرس میں مبتلا انسان کا نظام تنفس متاثر ہوتا ہے اور اسے سانس میں تکلیف سمیت گلے میں سوزش و خراش بھی ہوتی ہے اور اس وائرس کی علامات عام نزلہ و زکام یا گلے کی خارش جیسی بیماریوں سے الگ ہوتی ہیں۔

کورونا وائرس کی علامات میں ناک بند ہونا، سردرد، کھانسی، گلے کی سوجن اور بخار شامل ہیں اور چین کے مرکزی وزیر صحت کے مطابق ‘اس وبا کے پھیلنے کی رفتار بہت تیز ہے، میں خوفزدہ ہوں کہ یہ سلسلہ کچھ عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے اور کیسز کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے’۔

 

وائرس کے ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے کی تصدیق ہونے کے بعد چین کے کئی شہروں میں عوامی مقامات اور سینما گھروں سمیت دیگر اہم سیاحتی مقامات کو بھی بند کردیا گیا تھا جب کہ شہریوں کو سخت تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

اس کے علاوہ متعدد شہروں کو قرنطینہ میں تبدیل کرتے ہوئے عوام کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی تھی اور نئے قمری سال کی تعطیلات میں اضافہ کر کے تعلیمی اداروں اور دیگر دفاتر کو بند رکھا گیا تھا۔

واضح رہے کسی کورونا وائرس کا شکار ہونے پر فلو یا نمونیا جیسی علامات سامنے آتی ہیں جبکہ اس کی نئی قسم کا اب تک کوئی ٹھوس علاج موجود نہیں مگر احتیاطی تدابیر اور دیگر ادویات کی مدد سے اسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔