طاقت کے وحشیانہ استعمال نو آبادیاتی ہتھکنڈوں سے تحریک آزادی کشمیر کو دبایا نہیں جاسکتا کشمیر میں لوگوں کو دبانے کے لئے نظر بندی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے عبدالصمد انقلابی

سری نگر() اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے چیئرمین پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا ہے کہ اسلامی تحریک آزادی جموں کشمیر ظلم و جبر قتل غیرت گری اور طاقت کے وحشیانہ استعمال نو آبادیاتی ہتھکنڈوں سے دبایا نہیں جاسکتا۔ ایک بیان میں چیئرمین نے تمام حریت پسند رہنماں کارکنوں اور حریت پسند لوگوں کی مسلسل نظربندی پر گہری تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حریت پسند لوگوں اور رہنماں کی غیر قانونی نظربندی عالمی سطح پر تسلیم شدہ اصولوں انصاف اور قانون کی حکمرانی کی روح کے منافی ہے۔ چیئرمین نے بھارتی ظالم و جبر و قتل غیرت گری اور مذموم منصوبوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت اور ریاستی انتظامیہ ایسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ اصول انصاف کی روح کے منافی ہے۔ چیئرمین نے جموں کشمیر کے نظربند لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں قانون ہے کہ ایک شخص کو اسی وقت گرفتاریا نظربند کیاجاسکتا ہے جب وہ قصور وار ثابت ہو لیکن جموں کشمیر میں کسی بھی شخص کو کسی بھی وقت گرفتار کر کے غیر معینہ مدت تک نظربند کیا جاسکتا ہے۔ چیئرمین نے سیدہ آسیہ اندرابی فہمیدہ صوفی ناہیدہ نسرین اور دیگر سینکڑوں حریت پسند لیڈروں کارکنوں اور لوگوں کو جیلوں اور دیگر حراستی مراکز میں اس حقیقت کے باوجود نظربند رکھا گیا ہے کہ بھارتی حکومت اور ریاستی انتظامیہ نے ان کے خلاف ایک بھی ثبوت پیش نہیں کرسکتے ہیں۔ چیئرمین نے حریت پسند رہنماں اور کارکنوں کی غیر قانونی نظربند ی کو بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت اور ریاستی انتظامی نے جموں کشمیر میں اختلاف رائے کرنے والے لوگوں کو دبانے کے لئے نظر بندی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ چیئرمین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیں اور جموں کشمیر کے نظربند لیڈروں اور کارکنوں کی فوری رہائی میں اپنا کردار ادا کریں۔ چیئرمین نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت اور ریاستی انتظامیہ کے ظلم و جبر و قتل غیرت گری اور طاقت کے وحشیانہ استعمال کے ذریعے یا نو آبادیاتی ہتھکنڈوں کا ناجائز استعمال کر کے حق خودارادیت کے حصول کے لئے جموں کشمیر کے لوگوں کی جائز جدوجہد آزادی برائے اسلام کودبا نہیں جاسکتا۔ چیئرمیں نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت اور ریاستی انتظامیہ کو تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے کہ آزادی کی تحریکوں کو نو آبادیاتی ہتھکنڈوں سے دبایا نہیں جاسکتا اور اگر ایسا ہوتا تو بھارت برطانیہ سے آزادی حاصل نہ کرتا۔ چیئرمین نے بھارت پر زور دیا کہ وہ زمینی حقائق کو تسلیم کرے کہ اسلامی تحریک آزادی جموں کشمیر کے لوگوں کی اپنی مقامی اور حق پر مبنی جائز دینی، سیاسی اور سماجی جدوجہد ہے جس کو طاقت کے استعمال سے دبایا نہیں جاسکتا۔