
یومِ یکجہتی کشمیرتاریخی پس منظر؛ مقبوضہ جموں و کشمیر آج بھی بھارتی ظلم و جبر کی نظر! تحریر: محمد اختر اسلم۔
5 فرور ی یومِ یکجہتی کشمیرکا دن ہر سال پاکستان میں حکومتی اور عوا می سطح پر منایا جاتا ہے ۔اِس دن کشمیروں سے ہمدردی اور اظہارِ یکجہتی کے لیے مختلف تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے اور کشمیریوں کو یہ باور کروایا جاتا ہے کہ گزرتے وقت کے باوجود پاکستان کی لازوال محبت میںکوئی کمی نہیں آئی اور آزادیِ جدوجہد میں آپ تنہا نہیں۔پاکستانی عوام کشمیریوں کو نہ کبھی بھولے ہیں اور نہ کبھی بھولیں گے اور ہر سطح پر اِن کی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھی جائیگی۔اِس دن انصاف کے علمبردار اقوامِ عالم کومسئلہکشمیر استصواب رائے سے حل کرنے سے متعلق UNSC کی منظور شدہ قرارداروں پر ہندوستان کو عمل پیرا کروانے کے لیے سفارتی سطح پر پُر زور مطالبہ کیا جاتا ہے۔ پانچ فروری یومِ یکجہتی کشمیر کی اہمیت جاننے کیلئے تحریکِ آزادی کے پس منظر کو بھی جاننا ضروری ہے کشمیری عوام کی تحریک آزادی کشمیر اسی دن شروع ہو گئی تھی جب انگریزوں نے گلاب سنگھ کے ساتھ بدنام زمانہ(معاہدہ امرتسر) کے تحت 16مارچ1946کو کشمیر کا 75لاکھ روپے نانک شاہی کے عوض سودا کیا تھا۔13جولائی 1931کو سری نگر جیل کے احاطے میں کشمیریوں پر وحشیانہ فائرنگ کے نتیجے میں 22مسلمان شہید اور 47زخمی ہوئے اس واقعے پر لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کیلئے کشمیر کمیٹی قائم کی اور شاعر مشرق علامہ اقبال کو اس کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا نومبر 1931کو تحریک الاحرار نے مسلح جد وجہد اور سول نافرمانی کے ذریعے جموں و کشمیر کو آزاد کرنے کا مطالبہ کیا۔انگریز حکومت نے گلینس کمیشن قائم کیا 1934میں پہلی باربرصغیر میں کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ڈوگرہ راج کے مظالم کے خلاف ملک گیر ہڑتال کی گئی۔1946میں قائد اعظم نے مسلم کانفرنس کی دعوت پر سری نگر کا دورہ کیا جہاں قائد کی دور رس نگاہوں نے سیاسی، دفاعی،اقتصادی اور جغرافیائی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا کیونکہ ریاست میں مسلم اکثریت کا تناسب 78فیصد جبکہ وادی میں مسلم اکثریت کا تناسب 93فیصد تھا سڑک راولپنڈی جبکہ ریل سیالکوٹ کے راستے کشمیر سے منسلک تھی تاریخی اعتبار سے بھی 14ویں صدی سے لیکر19صدی کے آغاز تک کشمیر پر مسلمانوں کی حکومت تھی۔مسلم کانفرنس نے بھی کشمیری مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے 19جولائی 1947 کوسردارمحمد ابراہیم خان کے گھر سری نگر میں باقاعدہ طور پر قرارداد الحاق پاکستان منظور ی دی جس کے تحت کشمیریوں کی بڑی اکثریت نے پاکستان میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی لیکن جب کشمیریوں کے فیصلے کو نظر انداز کیا گیا تو مولانا فضل الہیٰ وزیر آباد کی قیادت میں 23اگست 1947کو مسلح جد و جہد کا نیلا بٹ کے مقام سے باقاعدہ آغاز کر دیا گیااور جوابً مہاراجہ نے کشمیر کا الحاق ہندوستان کے ساتھ کر تے ہوئے ہندوستان کی فوج کو کشمیر میںاُتارنے کی اجازت دے دی۔ تقسیم ہند کے وقت لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور ہندوگٹھ جوڑ مسئلہ کشمیر کی بنیاد ی وجہ بنا کیونکہ ریڈ کلف ایوارڈ کے تحت گورداس پور کا علاقہ ہندوستان کو دے دیا گیاتھا جو کہ ہندوستان کو کشمیر سے ملانے کا واحد راستہ تھا لہٰذابھارت نے اپنی فوجیں کشمیر میں اتار دِیں اور جموں میں مسلمانوں کا قتل عام شروع کردیاگیا جس کے نتیجے میں پاک بھارت جنگ شروع ہوگئی اور ساتھ ہی قبائلی مجاہدین کشمیری مسلمانوں کی مدد کو پہنچنا شروع ہوگئے اوربھارتیوں کی زبردست پٹائی ہوئی اور موجودہ آزاد کشمیر کا علاقہ آزاد کروایا ممکن تھا کہ مجاہدین سارا کشمیر آزاد کروا لیتے لیکن نہرو سرکارجنگ بندی کے لیے فوراً اقوام متحدہ پہنچ گئی۔لہٰذا اقوامِ متحدہ نے جنگ بندی کروا دی بھارت نے مسئلہ کشمیر کو استصواب رائے سے حل کرنے کا وعدہ کیا یعنی وہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ ریاست میں رائے شماری کے ذریعے مقامی عوام کی خواہشات کے مطابق کرینگے۔لیکن ہٹ دھرم بھارت اب تک مختلف ہتھکنڈوں سے ٹال مٹول کرتا رہا ہے اسی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان اب تک چار ہولناک جنگیں بھی ہو چُکی ہیں۔بھارت نے1954میں نام نہاد الیکشن کرواکرکٹپت کشمیر اسمبلی سے بھارت کے ساتھ الحاق کی منظوری لیکر اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دے دیا۔اِس کے باوجود کشمیریوں نے اپنی آزادی کی جدو جہد جاری رکھی اور ایک ایسا وقت بھی آیا جب کشمیریوں نے مسلم متحدہ محاذ کے نام سے ریاستی اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تا کہ اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد بھارت سے علیحدگی کی قرار داد پاس کر سکیںاس الیکشن میں حریت کانفرنس کے موجودہ سربراہ سید علی گیلانی اور سپریم کمانڈر سید صلاالدین نے بھی حصہ لیا لیکن بھارت نے مسلم متحدہ محاذ کی واضح انتخابی جیت کو دیکھتے ہوئے الیکشن کو سبوتاژ کر دیا-جس کے جواب میں UNSC نے قرارداد 122 پاس کی جس میں نام نہاد کشمیر الیکشن اور نام نہاد اسمبلی کے قانون کو مسترد کرتے ہوئے استصواب رائے کے مطابق الحاق کا فیصلہ قائم رکھا۔بھارت کے اِس اقدام کا نتیجہ یہ نکلا کہ کشمیری عوام نے سیاسی محاذ کو چھوڑتے ہوئے 1989میں مسلح جد و جہد کا آغاز کر دیا۔چنانچہ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے 5جنوری 1989کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی اور پاکستان سمیت پوری دنیا میں مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے ایک ماہ کا وقفہ دیکر 5فروری 1989کو ہڑتال کی اپیل کر کے یوم ِکشمیر منانے کا فیصلہ کیا۔ پہلے اُس وقت پنجاب کے وزیر اعلی میاںمحمد نواز شریف اور بعد میں وزیرِ اعظم پاکستان محترمہ بے نظیر بھٹو نے اس کی تائید کی۔ 1989کو یو مِ یکجہتی کشمیر پہلی مرتبہ اور1990کو تمام تر سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر پوری قوم نے منایا۔ گزشتہ 31برسوں سے 5فروری کو آزاد کشمیر و مقبوضہ کشمیر،پاکستان اور دنیا بھر میں موجود 15لاکھ کشمیر ی تارکین وطن ہر سال یوم ِیکجہتی کشمیر اس عزم کے ساتھ مناتے ہیں کہ آزادی کے حصول تک یہ سلسلہ جاری رہیگا کیونکہ مسئلہ کشمیر تقسیم بر صغیر کے نا مکمل ایجنڈے کا حصہ ہے۔کشمیری عوام آج 2021 میں بھی اپنی آزادی کیلئے مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق جنوری 1989سے لیکر31 دسمبر 2020تک بھارت 95,723 کشمیریوںکو شہید،161,330معصوم کشمیری گرفتار اوراب تک جعلی مقابلوں کی آڑ میں 110,383گھروں اور دُکانوں کو مسمار کر کے کشمیریوں کا معاشی قتل کر چُکا ہے ۔ 22,922 سہاگنوں کا سہاگ اجاڑا جا چُکاہے اور 107,807کشمیری بچوں کے باپ کاسایہ اُن کے سروںسے چھین لیا گیا ہے ۔ بھارتی قابض فوج کے ہاتھوں اب تک 11,226کشمیری خواتین اجتمائی حوِ س کا نشانہ بن چُکی ہیں۔ اِن تمام ظلم و جبر کا مقصدصرف اور صرف کشمیریوںکو اُن کے آزادی کے مطالبہ سے پیچھے ہٹا کر اپنے زیرِ تسلط رہنے پر مجبور کرنا ہے ۔بھارت مختلف ہتکھنڈو ں بشمول ڈیموگرافی(آبادی کا تناسب) کو تبدیل اور کشمیریوں کی نسل کشی کر کے مسلم کژیتی علاقہ کو اقلیت میں تبدیل کرنے میں بہت حد تک کامیاب ہو گیا ہے اور یہ سلسلہ بتدریج جاری ہے کیونکہ بھارت جانتا ہے کہ عالمی دبائوبڑھنے کی صورت میں فیصلہ اگر استصواب رائے کے زریعے فور اً حل ہوا تو وہ اِس کی خواہشات کے بر عکس ہو گا،بھارت اپنے مزموم عزائم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پاکستان کے خلاف سازیشئں کرتے ہوئے دہشتگردانہ کاروائیاں کروا کر اقوامِ عالم کی توجہ دوسری جانب مرکوز کرنے میں سر گرمِ عمل ہے۔ بھارت نے 5اگست 2019 کو جو اقدام کیا وہ سراسر اقوام متحدہ کی تمام تر قراردادوں کی خلاف ورزی ہے اور آج بھارت کے اس غیر آئینی اقدام کو 550 روزکاعرصہ مکمل ہو چُکا ہے لیکن اقوامِ متحدہ کی خاموشی عالمی انصاف کی فراہمی کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے ۔ فاشست ہندوتوا مودی سرکار نے 5اگست 2019 سے مقبوضہ جموں وکشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر تے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی جو کہعالمی انسانی حقوق کے علمبرداروں کے منہ پر تمانچہ ہے۔بھارت یہ اقدامات کرکے غیر ریاستی اقلیتیوں کو وادی میں آباد کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے ۔بھارت کی جانب سے مشرقیِ پاکستان کے ہندو اور سکھ مہاجرین کو کشمیر کی اندر جگہ الاٹ کی جارہی ہے تاکہ وادی کی مسلم اکثریتی تشخیص کو ختم کیا جائے اور اگر مستقبل قریب میں اقوامِ متحدہ کی قراردارں پر عمل در آمد کے لیے دباو آئے تو اپنی مرضی کے نتائج حاصل کئے جا سکیں۔آج کے دورِ جدید میں بھی مقبوضہ وادی ظلم و جبر کی ایسی نظر بن چُکا ہے جہاں بھارتی فوج کی 14،15،16 کور تعینات ہے جس کی مجموعی تعداد9لاکھ ہے جس کا مطلب اوسطً ہر 10کشمیریوںپر ایک فوجی تعینات ہے، مقبوضہ جمو ں و کشمیر میں تعنیات بھارتی فوج کی بٹالینز کو(راشٹریہ رائفلز) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے یہاں یہ بات واضح رہے کہ اِس وقت مقبوضہ وادی دنیا کا سب سے زیادہ عسکری زدہ خطہ ہے اور قابض فوج ظلم وبربریت کی ایسی داستان رقم کر رہی ہے کہ وادی کی مٹی کا کوئی ایسا ٹکڑا نہیں جس میں شہید کا خون شامل نہ ہو،وہاں کوئی ندی نالہ ایسا نہیں بہتا جس میں کشمیری مسلمانوں کا خون نہ بہتا ہو، وادی کا کوئی ایسا گھر نہیں جس میں کوئی مسلمان شہید نہ ہوا ہو اور کوئی ایسا شخص زندہ نہیں جو قابض فوج کے ہاتھوں تشدد کا شکار نہ ہوا ہو ۔بچوں کی قربانیاں دیکھیں تو واقعہ کربلا یاد آتا ہے، ہندوتوا سرکار کے تمام تر ظلم و درندگی کے باوجود کشمیری مسلمان آج بھی یک زبان، یک جان ہو کر سبز ہلالی پرچم ہاتھو ں میں تھامے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں، کشمیری جانتے ہیں کہ آزادیِ جدوجہد میںاُ ن کی قربانیاں اور جزبے بھارتی فوج کی بندوقوں سے زیادہ طاقت ور ہیں اور جیت ہمارا مقدر ہے کیونکہ حق اور باطل کی جنگ میں جیت ہمیشہ حق کی ہوتی ہے۔ اِس وقت مقبوضہ وادی کے حالات انتہائی حساس ہیں ،اقوامِ عالم پر زامہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فوراًبھارت کی اِن خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اورکشمیریوں کے ساتھ کئے گئے حقِ خود ارادیت کے وعدے کو وفاکرے ایسے میںاگر اقوا مِمتحدہ نے کوئی پیشرفت نہ کی تو دونوں ممالک کے درمیان ایک ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہے جس کہ دوردرس نتائج نا صرف جنوبی ایشاء بلکہ پوری دنیا پر مرتکب ہونگے۔